پُرامن نئی دُنیا میں زندگی
جب آپ اِس اشتہار پر نگاہ ڈالتے ہیں تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کا دل نظر آنے والے امن، خوشحالی اور اقبالمندی کی آرزو نہیں کرتا؟ واقعی کرتا ہے۔ لیکن آپ کے خیال میں کیایہ یقین کر لینا کہ ایسی حالتیں کبھی زمین پر وجود میں آئیں گی، محض ایک خواب یا تصور ہے؟
بیشتر لوگ غالباً ایسا ہی سوچتے ہیں۔ چنانچہ، جنگ، جُرم، بھوک، بیماری، بڑھاپا آجکل کی چند حقیقتیں ہیں۔ تاہم اُمید کی ایک وجہ ہے۔ مستقبل کی بابت بائبل بتاتی ہے کہ ”[خدا] کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“—۲-پطرس ۳:۱۳؛ یسعیاہ ۶۵:۱۷۔
بائبل کے مطابق یہ ”نئے آسمان“ اور ”نئی زمین“ نیا مادی آسمان یا نئی حقیقی زمین نہیں ہے۔ طبعی زمینوآسمان کامل بنائے گئے تھے اور بائبل ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ تک رہیں گے۔ (زبور ۸۹:۳۶، ۳۷، ۱۰۴:۵) ”نئی زمین“ لوگوں کا ایک راستباز معاشرہ ہوگا اور ”نئے آسمان“ ایک کامل آسمانی بادشاہت یا حکومت ہوگی جو لوگوں کے اس زمینی معاشرے پر حکمرانی کرے گی۔ لیکن کیا یہ یقین کر لینا حقیقتپسندانہ بات ہے کہ ”ایک نئی زمین“ یا پُرجلال نئی دنیا ممکن ہے؟
ذرا اِس حقیقت پر غور کریں کہ ایسی شاندار حالتیں اِس زمین کیلئے خدا کے اصلی مقصد کا حصہ تھیں۔ اُس نے پہلے انسانی جوڑے کو عدن کے زمینی فردوس میں رکھا اور انہیں ایک شاندار تفویض بخشی: ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو۔“ (پیدائش ۱:۲۸) جیہاں، اُن کے لئے خدا کا مقصد یہ تھا کہ اولاد پیدا کریں اور اپنے فردوس کو بالآخر تمام زمین پر پھیلا دیں۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے خدا کی نافرمانی کرنے کا انتخاب کیا اور یوں [خود کو] ہمیشہ تک زندہ رہنے کے نااہل ثابت کر دیا توبھی خدا کا اصلی مقصد تبدیل نہ ہوا۔ لہٰذا اب یہ نئی دنیا میں ضرور پورا ہوگا!—یسعیاہ ۵۵:۱۱۔
درحقیقت، جب آپ دُعائےخداوندی یا اَے ہمارے باپ کی دُعا کرتے ہوئے درخواست کرتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت آئے تو آپ یہ دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ اُس کی آسمانی حکومت زمین کو شرارت سے نجات دلائے اور اِس نئی دُنیا پر حکمرانی کرے۔ (متی ۶:۹، ۱۰) پس ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ خدا اُس دُعا کا جواب ضرور دے گا چونکہ اُس کا کلام وعدہ کرتا ہے: ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“—زبور ۳۷:۲۹۔
خدا کی نئی دُنیا میں زندگی
خدا کی بادشاہت ہر نیک کام سرانجام دیکر لاثانی زمینی فائدے لائیگی جسکا خدا نے زمین پر اپنے لوگوں کی لطفاندوزی کیلئے ابتدا میں قصد کِیا تھا۔ نفرتوں اور تعصّبات کا وجود باقی نہ رہے گا اور بالآخر زمین پر ہر کوئی ایک دوسرے کا حقیقی دوست ہوگا۔ بائبل میں خدا وعدہ فرماتا ہے کہ ”وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔“ ”قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“—زبور ۴۶:۹؛ یسعیاہ ۲:۴۔
بالآخر تمام زمین کو باغنما فردوس کی حالت میں بدل دیا جائے گا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”بیابان اور ویرانہ شادمان ہوں گے اور دشت خوشی کرے گا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہوگا . . . کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلیں گی، بلکہ سراب تالاب ہو جائے گا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائے گی۔“—یسعیاہ ۳۵:۱، ۶، ۷۔
فردوسی زمین پر خوش ہونے کی ہر وجہ ہوگی۔ خوراک کی کمی کے باعث لوگ پھر کبھی بھوکےنہ ہوں گے۔ بائبل فرماتی ہے: ”زمین یقینی طور پر اپنی پیداوار دیگی۔“ (زبور ۶۷:۶، اینڈبلیو؛ ۷۲:۱۶) سب لوگ اپنی محنت کے پھل سے لطفاندوز ہوں گے جیسےکہ ہمارا خالق وعدہ فرماتا ہے: ”وہ تاکستان لگائیں گے اور اُنکے میوے کھائیں گے۔ . . . نہ کہ وہ لگائیں اور دوسرا کھائے۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۱، ۲۲۔
خدا کی نئی دنیا میں لوگوں کو پھر فلکبوس عمارتوں اور گندی اور تنگوتاریک گلیوں والے گنجانآباد علاقوں میں نہیں رہنا پڑے گا کیونکہ خدا نے یہ قصد کِیا ہوا ہے کہ وہ ”گھر بنائیں گے اور اُن میں بسیں گے . . . نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔“ بائبل یہ وعدہ بھی کرتی ہے کہ: ”اُن کی محنت بےسود نہ ہوگی۔“ (یسعیاہ ۶۵:۲۱-۲۳) لہٰذا لوگوں کے پاس مؤثر اور اطمینانبخش کام ہوگا۔ زندگی اکتا دینے والی نہ ہوگی۔
وقت آنے پر خدا کی بادشاہت پُرامن رشتوں کو بھی بحال کر دے گی جو باغِعدن میں جانوروں کے مابین اور انسانوں اور جانوروں کے مابین موجود تھے۔ بائبل کہتی ہے: ”پس بھیڑیا برّہ کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مِلجُل کر رہینگے اور ننھا بچہ اُنکی پیشرَوی کرے گا۔“—یسعیاہ ۱۱:۶-۹؛ ہوسیع ۲:۱۸۔
ذرا تصور کریں کہ فردوسی زمین میں تمام بیماریوں اور جسمانی کمزوریوں سے بھی شفا بخشی جائے گی! خدا کا کلام ہمیں یقین دلاتا ہے: ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) ”[خدا] اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا، نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۴۔
آپ کے لئے کیسے ممکن ہے
یقینی بات ہے کہ نئی راست دنیا میں زندگی کی بابت خدائی وعدوں سے آپ کے دل کو تحریک ملنی چاہئے۔ اگرچہ بعض لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ اتنی اچھی برکات کا حاصل ہونا ناقابلِیقین ہے لیکن ہمارے شفیق خالق کے ہاتھ سے اتنی اچھی برکات کا حصول ناقابلِیقین نہیں ہے۔—زبور ۱۴۵:۱۶؛ میکاہ ۴:۴۔
اگر ہمیں زمین پر آنے والے فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہنا ہے تو بلاشُبہ، ایسے تقاضے موجود ہیں جن کو پورا کرنا ہے۔ یسوع نے دُعا میں خدا سے یہ کہتے ہوئے ایک بنیادی تقاضے کو ظاہر کِیا تھا: ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائےواحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تُونے بھیجا ہے جانیں۔“—یوحنا ۱۷:۳۔
پس اگر ہم واقعی خدا کی نئی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں تو ضرور ہے کہ پہلے ہم خدا کی مرضی کو جانیں اور پھر اُسے بجا لائیں۔ اسلئے کہ حقیقت تو یہی ہے کہ ”دُنیا اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں، لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا“ تاکہ ہمارے شفیق خالق کی طرف سے بکثرت نازل ہونے والی برکات سے ہمیشہ تک لطفاندوز ہوتا رہے۔—۱-یوحنا ۲:۱۷۔
جب تک بصورتِدیگر ظاہر نہ کیا گیا ہو، بائبل کے تمام حوالہجات اُردو ریوائزڈ ورشن سے لئے گئے ہیں۔