بدھ، 29 اپریل
سوچنے سمجھنے کی صلاحیت آپ کی نگرانی کرے گی اور سُوجھبُوجھ آپ کی حفاظت کرے گی۔—اَمثا 2:11۔
ہم سب کو ہر دن فیصلے لینے پڑتے ہیں۔ کچھ فیصلے آسان ہوتے ہیں جیسے کہ ہم ناشتے میں کیا کھائیں گے یا کس وقت سوئیں گے۔ لیکن کچھ معاملوں میں فیصلہ لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاید یہ ایسے فیصلے ہوں جن کا اثر ہماری صحت، ہماری خوشیوں، ہمارے عزیزوں یا ہماری عبادت پر پڑ سکتا ہے۔ بےشک ہم ایسے فیصلے لینا چاہتے ہیں جن سے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو فائدہ ہو۔ لیکن ہمارے لیے سب سے اہم بات یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے فیصلوں سے یہوواہ خوش ہو۔ (روم 12:1، 2) اچھے فیصلے لینے کے لیے ایک اہم قدم یہ ہے کہ آپ تمام حقائق جان جائیں۔ ایسا کرنا ضروری کیوں ہے؟ فرض کریں کہ ایک شخص کو سنگین بیماری ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے۔ کیا وہ ڈاکٹر اُس شخص کا معائنہ کرنے یا اُس سے سوال پوچھنے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ وہ اُس کا کیا علاج کرے گا؟ نہیں، ایک اچھا ڈاکٹر ایسا بالکل نہیں کرے گا۔ اِسی طرح اگر آپ ایک معاملے کے بارے میں پہلے سے تمام حقائق پر سوچ بچار کریں گے تو آپ ایک اچھا فیصلہ لے پائیں گے۔ م25.01 ص. 14 پ. 1-3
جمعرات، 30 اپریل
یہوواہ آپ کا گُناہ معاف کرتا ہے۔ آپ مریں گے نہیں۔—2-سمو 12:13۔
ہم یہوواہ کے رحم کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اُس نے یہ کیسے ثابت کِیا ہے کہ ”وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو“؟ (2-پطر 3:9) غور کریں کہ وہ کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ رحم سے کیسے پیش آیا جنہوں نے بہت بڑے گُناہ کیے۔ بادشاہ داؤد نے بہت بڑے گُناہ کیے تھے جن میں زِناکاری اور قتل جیسے گُناہ شامل تھے۔ لیکن جب داؤد نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے اُن پر رحم کرتے ہوئے اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-سمو 12:1-12) بادشاہ منسّی نے اپنی زندگی کے زیادہتر عرصے میں بہت ہی بڑے اور بھیانک گُناہ کیے تھے۔ اُنہوں نے تو ایک طرح سے گُناہ کرنے کی حد پار کر دی تھی۔ لیکن جب اُنہوں نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے بھی دل کھول کر اُن پر رحم کِیا اور اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-توا 33:9-16) اِن مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہوواہ کو اِس بات کی چھوٹی سی بھی وجہ نظر آتی ہے کہ ایک شخص پر رحم کِیا جانا چاہیے تو وہ ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہوواہ ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اِن لوگوں کو احساس تھا کہ اُن سے بڑے گُناہ ہوئے ہیں اور وہ دل سے اِن پر شرمندہ تھے۔ م24.05 ص. 4 پ. 12
جمعہ، 1 مئی
خدا تعصب نہیں کرتا۔—روم 2:11۔
جب یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کروایا تو اُس نے کچھ کاہنوں کو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ اُس نے اپنے اِس پاک خیمے میں لاویوں کو بھی کچھ اَور کاموں کی دیکھبھال کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ کیا یہوواہ نے صرف اُنہی لوگوں کا اچھی طرح سے خیال رکھا جو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرتے تھے یا جن کے خیمے خیمۂاِجتماع کے قریب تھے؟ نہیں! یہوواہ کسی سے تعصب نہیں کرتا۔ ہر اِسرائیلی ہی یہوواہ کا قریبی دوست بن سکتا تھا۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ پوری ہی قوم اُس بادل کے ستون اور آگ کے ستون کو دیکھ سکے جو اُس نے معجزانہ طور پر خیمۂاِجتماع کے اُوپر کھڑا کِیا ہوا تھا۔ (خر 40:38) جب بھی بادل نئی سمت کی طرف مُڑتا تھا تو وہ لوگ بھی اِسے آسانی سے دیکھ سکتے تھے جن کے خیمے سب سے دُور لگے ہوئے تھے۔ اِس طرح وہ اپنا سامان باندھ سکتے تھے، اپنے خیموں کو بند کر سکتے تھے اور ایک ہی وقت میں باقی لوگوں کے ساتھ مل کر سفر پر روانہ ہو سکتے تھے۔ (گن 9:15-23) آج بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ چاہے ہم دُنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے، اُسے ہماری فکر ہے اور وہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔ م24.06 ص. 4 پ. 10-12