بدھ، 12 اگست
اُس نے اپنے بیٹے کے ذریعے فدیہ دے کر ہمیں رِہائی دِلائی۔ ہاں، اُس کے بیٹے کے خون سے ہمارے گُناہ معاف ہو گئے۔ واقعی خدا کی رحمت بڑی عظیم ہے!—اِفِس 1:7۔
یسوع مسیح ایک بےعیب اِنسان تھے بالکل اُسی طرح جس طرح آدم گُناہ کرنے سے پہلے تھے۔ (1-کُر 15:45) تو یسوع مسیح نے اپنی جان دے کر اُس چیز کے لیے برابر کی قیمت ادا کر دی جو آدم نے کھو دی تھی۔ (روم 5:19) اِس طرح یسوع مسیح ”آخری آدم“ بن گئے۔ اب کسی اَور بےعیب اِنسان کی ضرورت نہیں تھی جو آ کر اُس زندگی کی قیمت ادا کرتا جو آدم نے گنوا دی تھی۔ یسوع مسیح نے ”اپنے آپ کو قربان کر کے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے قربانی چڑھا دی۔“ (عبر 7:27؛ 10:12) دراصل کفارے کے بندوبست کے ذریعے یہوواہ نے یہ ممکن بنایا کہ ہمارے گُناہ معاف ہو سکیں تاکہ ہم پھر سے اُس سے دوستی کر سکیں۔ لیکن اِس بندوبست سے ہمیں تبھی فائدہ ہو سکتا تھا اگر ہمارے لیے فدیے کی قیمت ادا کی جاتی۔ یسوع مسیح نے ہماری خاطر اپنا بیشقیمت خون بہا کر ہمارے گُناہوں کی قیمت چُکائی۔—عبر 9:14۔ م25.02 ص. 4-5 پ. 12-13
جمعرات، 13 اگست
خدا وعدے کا پکا ہے اور وہ آپ کو کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دے گا جو آپ کی برداشت سے باہر ہو بلکہ وہ ہر آزمائش کے ساتھ کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکالے گا تاکہ آپ ثابتقدم رہ سکیں۔—1-کُر 10:13۔
اگر ہم یہوواہ کو ایک زندہ خدا سمجھیں گے تو ہم مشکلوں کے بارے میں صحیح سوچ اپنائیں گے۔ وہ کیسے؟ جب ہم پر مشکلیں آئیں گی تو ہم یہ یاد رکھ پائیں گے کہ ہماری مشکلیں کائنات میں چلنے والے سب سے بڑے مسئلے کا حصہ ہیں۔ یہ مسئلہ یہوواہ خدا اور شیطان کے بیچ چل رہا ہے۔ شیطان نے دعویٰ کِیا تھا کہ مشکلیں آنے پر ہم یہوواہ کو چھوڑ دیں گے۔ (ایو 1:10، 11؛ اَمثا 27:11) جب ہم یہوواہ کے وفادار رہتے ہیں تو ہم شیطان کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں اور یہوواہ کے لیے اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں۔ کیا آپ کو حکومت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟ کیا آپ کو پیسوں کی تنگی ہے؟ کیا مُنادی کے دوران لوگ آپ کی بات نہیں سنتے؟یا کیا آپ کسی اَور طرح کی مشکل سے گزر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ اِن صورتحال میں آپ کے پاس موقع ہے کہ آپ یہوواہ کے دل کو خوش کر سکیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوواہ آپ کو کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دے گا جو آپ کی برداشت سے باہر ہو۔ وہ آپ کو طاقت دے گا تاکہ آپ مشکلوں میں بھی ثابتقدم رہ سکیں۔ م24.06 ص. 22 پ. 9
جمعہ، 14 اگست
ہر شخص اپنی ہی خواہشوں کی وجہ سے آزمایا اور اُکسایا جاتا ہے۔—یعقو 1:14۔
کیا آپ اپنی اُن کمزوریوں یا خامیوں کو جانتے ہیں جن کی وجہ سے آپ آسانی سے آزمائش میں پڑ سکتے ہیں؟ اگر آپ اِس بات سے اِنکار کریں گے کہ آپ میں فلاں خامی ہے یا پھر آپ یہ سوچیں گے کہ آپ اِتنے مضبوط ہیں کہ آپ سے کوئی گُناہ ہو ہی نہیں سکتا تو آپ خود کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔ (1-یوح 1:8) یاد کریں کہ پولُس رسول نے کہا تھا کہ وہ پُختہ مسیحی بھی آزمائش کے پھندے میں پھنس سکتے ہیں جو چوکس نہیں رہتے۔ (گل 6:1) تو ہمیں ایمانداری سے اپنا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو پہچاننا چاہیے۔ (2-کُر 13:5) ایک بار جب ہم یہ جان جاتے ہیں کہ ہم اپنی کن کمزوریوں یا خامیوں کی وجہ سے آزمائش میں پڑ سکتے ہیں تو اِس کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں اپنے اِس عزم کو مضبوط کرنا چاہیے کہ ہم آزمائش کے آگے گُھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ذرا اِس مثال پر غور کریں۔ پُرانے زمانے میں ایک شہر کے دروازے اُس کا سب سے کمزور حصہ ہوتے تھے۔ اِسی لیے اُن کی حفاظت کرنے کے لیے وہاں سخت پہرا لگایا جاتا تھا۔ اِسی طرح ہمیں خاص طور پر اُن حلقوں میں اپنی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے جن میں ہم کمزور ہیں تاکہ ہم آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔—1-کُر 9:27۔ م24.07 ص. 15 پ. 5-7