اِتوار، 26 اپریل
جیسے یہوواہ نے آپ کو دل سے معاف کِیا ہے ویسے ہی آپ بھی دوسروں کو معاف کریں۔—کُل 3:13۔
یہوواہ ہم سے توقع کرتا ہے کہ ہم اُن لوگوں کو معاف کرنے کے لیے تیار رہیں جو ہمارا دل دُکھاتے ہیں۔ (زبور 86:5؛ لُو 17:4؛ اِفِس 4:32) شاید ہمیں اُس وقت بہت تکلیف ہو جب کوئی شخص، خاص طور پر ہمارا قریبی دوست یا گھر کا کوئی فرد ہم سے دل دُکھانے والی بات کہتا ہے۔ (زبور 55:12-14) کبھی کبھار تو یہ درد اِتنا شدید ہوتا ہے کہ ہمیں ایسے لگ سکتا ہے جیسے کسی نے ہماری پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا ہو۔ (اَمثا 12:18) شاید ہم اپنے درد کو دبانے یا اِسے نظرانداز کرنے کی پوری کوشش کریں۔ لیکن یہ ایسے ہی ہوگا جیسے ہم اُس چُھرے کو اپنے زخم میں ہی رہنے دیں۔ اِس طرح تو زخم کبھی نہیں بھرے گا اور تکلیف وہیں کی وہیں رہے گی۔ تو اپنے احساسات کو نظرانداز نہ کریں۔ اِس سے تکلیف دُور نہیں ہوگی۔ ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ایسا کرنے سے سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ جب کوئی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو شاید ہمیں فوراً غصہ آ جائے۔ بائبل میں بتایا گیا ہے کہ ہم سبھی کو غصہ آ سکتا ہے۔ لیکن اِس میں ہمیں خبردار کِیا گیا ہے کہ ہمیں اِس غصے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ (زبور 4:4؛ اِفِس 4:26) کیوں؟ کیونکہ غصے میں کیے جانے والے کاموں کے کوئی اچھے نتیجے نہیں نکلتے۔ (یعقو 1:20) یاد رکھیں کہ غصہ آ جانا ہمارے اِختیار میں نہیں لیکن یہ ہمارے اِختیار میں ہے کہ ہم غصے میں رہیں گے یا نہیں۔ م25.02 ص. 15 پ. 4-6
سوموار، 27 اپریل
دانشمندی . . . اپنے مالک کی جان کو محفوظ[رکھتی]ہے۔—واعظ 7:12۔
یسوع مسیح نے ایک امیر آدمی کی مثال دی جس کے ذریعے اُنہوں نے سمجھایا کہ وہ شخص کتنا بےوقوف ہوتا ہے جو اپنا دھیان پیسہ جمع کرنے پر رکھتا ہے لیکن ”خدا کی نظر میں امیر ہونے کی کوشش نہیں“ کرتا۔ (لُو 12:16-21) ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔ (اَمثا 23:4، 5؛ یعقو 4:13-15) اور مسیح کا شاگرد ہونے کی وجہ سے تو ہمیں ایک اَور مشکل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ اُن کا شاگرد بننے کے لیے ہمیں اپنے سارے مالودولت کو ’چھوڑ دینے‘ کو تیار ہونا چاہیے۔ (لُو 14:33، فٹنوٹ) پہلی صدی عیسوی میں یہودیہ میں رہنے والے مسیحیوں نے خوشی خوشی اپنے مالودولت کو قربان کر دیا۔ (عبر 10:34) آج بھی بہت سے مسیحیوں کو اِس وجہ سے اپنا پیسہ اور نوکری کھونی پڑتی ہے کیونکہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے۔ (مُکا 13:16، 17) وہ اِن چیزوں کو قربان کرنے کو تیار کیوں ہوتے ہیں؟ اِس لیے کیونکہ وہ یہوواہ کے اِس وعدے پر پکا بھروسا رکھتے ہیں: ”مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ (عبر 13:5) تو ہمیں آنے والے وقت میں اپنے بڑھاپے کے لیے تھوڑے بہت پیسے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ لیکن ہمیں یہوواہ پر پورا بھروسا رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیں اُس وقت سنبھالے گا جب ہم پر کوئی ایسا وقت آئے گا جس کی ہم نے توقع نہیں کی ہوگی۔ م25.03 ص. 29-30 پ. 13-14
منگل، 28 اپریل
اب جبکہ ہم مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات سے آگے بڑھ گئے ہیں، آئیں، پختگی کی طرف بڑھیں اور بنیادی باتوں کو نئے سرے سے نہ سیکھیں۔—عبر 6:1۔
یہوواہ ہم سے یہ توقع نہیں کرتا کہ ہم خود ہی پُختہ مسیحی بن جائیں۔ اُس نے ہمیں کلیسیا میں ایسے نگہبان اور اُستاد دیے ہیں جو ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم ”مسیح کی طرح مکمل طور پر پُختہ“ بن جائیں۔ (اِفِس 4:11-13) اِس کے علاوہ یہوواہ نے ہمیں اپنی پاک روح دی ہے جس کی مدد سے ہم ”مسیح کی سوچ“ اپنا سکتے ہیں۔ (1-کُر 2:14-16) اُس نے اپنی پاک روح کے ذریعے چار اِنجیلیں لکھوائی ہیں جن سے ہم یسوع مسیح کی سوچ، اُن کی باتوں اور اُن کے کاموں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ اگر آپ یسوع مسیح کی طرح سوچیں گے اور وہ کام کریں گے جو یسوع مسیح نے کیے تو آپ پختگی کی طرف بڑھ پائیں گے۔ لیکن پختگی کی طرف بڑھنے کے لیے ہمیں ”مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات سے آگے“ بڑھنا ہوگا یعنی اُن تعلیمات سے جو ہم نے شروع شروع میں سیکھی تھیں۔ م24.04 ص. 4-5 پ. 11-12