جمعرات، 30 اپریل
یہوواہ آپ کا گُناہ معاف کرتا ہے۔ آپ مریں گے نہیں۔—2-سمو 12:13۔
ہم یہوواہ کے رحم کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اُس نے یہ کیسے ثابت کِیا ہے کہ ”وہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص ہلاک ہو“؟ (2-پطر 3:9) غور کریں کہ وہ کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ رحم سے کیسے پیش آیا جنہوں نے بہت بڑے گُناہ کیے۔ بادشاہ داؤد نے بہت بڑے گُناہ کیے تھے جن میں زِناکاری اور قتل جیسے گُناہ شامل تھے۔ لیکن جب داؤد نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے اُن پر رحم کرتے ہوئے اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-سمو 12:1-12) بادشاہ منسّی نے اپنی زندگی کے زیادہتر عرصے میں بہت ہی بڑے اور بھیانک گُناہ کیے تھے۔ اُنہوں نے تو ایک طرح سے گُناہ کرنے کی حد پار کر دی تھی۔ لیکن جب اُنہوں نے دل سے توبہ کی تو یہوواہ نے بھی دل کھول کر اُن پر رحم کِیا اور اُنہیں معاف کر دیا۔ (2-توا 33:9-16) اِن مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہوواہ کو اِس بات کی چھوٹی سی بھی وجہ نظر آتی ہے کہ ایک شخص پر رحم کِیا جانا چاہیے تو وہ ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہوواہ ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا کیونکہ اِن لوگوں کو احساس تھا کہ اُن سے بڑے گُناہ ہوئے ہیں اور وہ دل سے اِن پر شرمندہ تھے۔ م24.05 ص. 4 پ. 12
جمعہ، 1 مئی
خدا تعصب نہیں کرتا۔—روم 2:11۔
جب یہوواہ نے بنیاِسرائیل کو مصر کی غلامی سے آزاد کروایا تو اُس نے کچھ کاہنوں کو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ اُس نے اپنے اِس پاک خیمے میں لاویوں کو بھی کچھ اَور کاموں کی دیکھبھال کرنے کے لیے مقرر کِیا۔ کیا یہوواہ نے صرف اُنہی لوگوں کا اچھی طرح سے خیال رکھا جو خیمۂاِجتماع میں خدمت کرتے تھے یا جن کے خیمے خیمۂاِجتماع کے قریب تھے؟ نہیں! یہوواہ کسی سے تعصب نہیں کرتا۔ ہر اِسرائیلی ہی یہوواہ کا قریبی دوست بن سکتا تھا۔ مثال کے طور پر یہوواہ نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ پوری ہی قوم اُس بادل کے ستون اور آگ کے ستون کو دیکھ سکے جو اُس نے معجزانہ طور پر خیمۂاِجتماع کے اُوپر کھڑا کِیا ہوا تھا۔ (خر 40:38) جب بھی بادل نئی سمت کی طرف مُڑتا تھا تو وہ لوگ بھی اِسے آسانی سے دیکھ سکتے تھے جن کے خیمے سب سے دُور لگے ہوئے تھے۔ اِس طرح وہ اپنا سامان باندھ سکتے تھے، اپنے خیموں کو بند کر سکتے تھے اور ایک ہی وقت میں باقی لوگوں کے ساتھ مل کر سفر پر روانہ ہو سکتے تھے۔ (گن 9:15-23) آج بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ چاہے ہم دُنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوں، یہوواہ ہم سے پیار کرتا ہے، اُسے ہماری فکر ہے اور وہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔ م24.06 ص. 4 پ. 10-12
ہفتہ، 2 مئی
اُٹھو یہاں سے بھاگ چلیں ورنہ ہم میں سے کوئی بھی ابیسلوم کے ہاتھ سے نہیں بچ سکے گا۔—2-سمو 15:14۔
داؤد کی جان خطرے میں تھی۔ اُن کا بیٹا ابیسلّوم اُن کے تخت پر قبضہ جمانا چاہتا تھا اور اُنہیں اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ (2-سمو 15:12، 13) اِس وجہ سے داؤد کو فوراً یروشلم سے بھاگنا پڑا۔ جب داؤد اور اُن کے خادم یروشلم سے نکل رہے تھے تو داؤد نے سوچا کہ اُن میں سے کسی نہ کسی کو پیچھے رُک جانا چاہیے تاکہ وہ اُنہیں ابیسلّوم کے منصوبوں کی خبر دیتا رہے۔ اِس لیے اُنہوں نے صدوق کاہن اور دوسرے کاہنوں کو واپس شہر بھیج دیا تاکہ وہ اُنہیں پَل پَل کی خبر دے سکیں۔ (2-سمو 15:27-29) اِن آدمیوں کو بڑی ہی ہوشیاری سے اور محتاط ہو کر یہ کام کرنا تھا۔ داؤد نے ایک منصوبہ بنایا جس میں اُنہوں نے اپنے وفادار دوستوں یعنی صدوق اور حُوسی سے مدد مانگی۔ (2-سمو 15:32-37) اِس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے حُوسی نے ابیسلّوم کا بھروسا جیتا اور اُسے مشورہ دیا کہ وہ داؤد پر کیسے حملہ کرے۔ اِس طرح داؤد کو ابیسلّوم کے حملے سے بچنے کا وقت مل گیا۔ جب ابیسلّوم نے حُوسی کا مشورہ مان لیا تو حُوسی نے اِس کے بارے میں صدوق اور ابیآتر کو بتایا۔ (2-سمو 17:8-16) پھر صدوق اور ابیآتر نے داؤد کو ابیسلّوم کے منصوبے کے بارے میں پیغام بھجوایا۔ اِس پیغام نے داؤد کی زندگی بچانے میں بہت اہم کردار ادا کِیا۔—2-سمو 17:21، 22۔ م24.07 ص. 4-5 پ. 9-10