-
یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہےمینارِنگہبانی—1996ء | 1 جنوری
-
-
”مَیں اُنکو شفا دُونگا اور امنوسلامتی [”سچائی،“ اینڈبلیو] کی کثرت اُن پر ظاہر کرونگا۔“—یرمیاہ ۳۳:۶۔
-
-
یہوؔواہ امن اور سچائی بکثرت بخشتا ہےمینارِنگہبانی—1996ء | 1 جنوری
-
-
۳. یرؔمیاہ کی معرفت یہوؔواہ کے الفاظ کی تکمیل میں، کونسے تاریخی واقعات نے اسرائیل کو امن کی بابت ایک دوسرااہم سبق سکھایا؟
۳ تاہم، یرؔوشلیم کے زوال سے پہلے، یہوؔواہ نے آشکارا کر دیا تھا کہ اسرائیل میں حقیقی امن مصرؔ کی بجائے وہ خود لائیگا۔ یرؔمیاہ کی معرفت اُس نے وعدہ کِیا: ”مَیں اُنکو شفا دُونگا اور امنوسلامتی [”سچائی،“ اینڈبلیو] کی کثرت اُن پر ظاہر کرونگا۔ اور مَیں یہوؔداہ اور اسرؔائیل کو اسیری سے واپس لاؤنگا اور اُنکو پہلے کی طرح بناؤنگا۔“ (یرمیاہ ۳۳:۶، ۷) یہوؔواہ کا وعدہ ۵۳۹ ق.س.ع. میں پورا ہونا شروع ہوا جب بابلؔ کو فتح کر لیا گیا اور جلاوطن اسرائیلیوں کو آزادی کی پیشکش کی گئی۔ (۲-تواریخ ۳۶:۲۲، ۲۳)۵۳۷ ق.س.ع. کے آخری حصہ میں، اسرائیلیوں کی ایک جماعت نے ۷۰ سال میں پہلی بار اسرائیل کی سرزمین میں عیدِخیام منائی! عید کے بعد، وہ یہوؔواہ کی ہیکل کی تعمیرنو کیلئے روانہ ہوئے۔ اُنہوں نے اس کی بابت کیسا محسوس کِیا؟ بیان کہتا ہے: ”جب وہ خداوند کی ستایش کر رہے تھے تو سب لوگوں نے بلند آواز سے نعرہ مارااسلئے کہ خداوند کے گھر کی بنیاد پڑی تھی۔“—عزرا۳:۱۱۔
-