-
کیا آپ میں ”مسیح کی عقل“ ہے؟مینارِنگہبانی—2000ء | 15 فروری
-
-
کیا آپ میں ”مسیح کی عقل“ ہے؟
”دُعا ہے کہ برداشت اور تسلی بخشنے والا خدا تمہیں مسیح یسوؔع جیسا ذہنی رُجحان رکھنے کی توفیق عطا کرے۔“—رومیوں ۱۵:۵، اینڈبلیو۔
۱. دُنیائےمسیحیت کی بہتیری تصاویر میں یسوع کی کیسے تصویرکشی کی جاتی ہے اور یہ یسوع کی درست تصویرکشی کیوں نہیں ہے؟
”اُسے کبھی بھی ہنستے نہیں دیکھا گیا۔“ ایک دستاویز نے یسوع کی یوں تصویرکشی کی ہے جو ایک قدیمی رومی اہلکار کی تصنیف ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ دستاویز جو تقریباً ۱۱ویں صدی سے اسی حالت میں محفوظ ہے، اِسکی بابت کہا گیا ہے کہ اِس نے بہتیرے مُصوّروں کو متاثر کِیا ہے۔a کئی تصاویر میں یسوع ایسا سنجیدہ دکھائی دیتا ہے جو شاید ہی کبھی مسکرایا ہو۔ لیکن اس سے یسوع کی درست تصویرکشی نہیں ہوتی جسے اناجیل ایک پُرتپاک، نرمدل انسان کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
۲. ہم ”مسیح یسوع جیسا ذہنی رُجحان“ کس طرح پیدا کر سکتے ہیں اور یہ ہمیں کیا کرنے کیلئے لیس کریگا؟
۲ بِلاشُبہ، حقیقی یسوع کو جاننے کیلئے ہمیں اپنے دلودماغ کو صحیح سمجھ عطا کرنی چاہئے کہ زمینی زندگی کے دوران یسوع درحقیقت کیسا شخص تھا۔ پس ہمیں چند انجیلی بیانات کا جائزہ لینا چاہئے جو ہمیں ”مسیح کی عقل“—اسکے احساسات، اسکی ادراکی قوتوں، اسکے خیالات اور اسکی سوچکی بابت بصیرت عطا کر سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۶) جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم ”مسیح یسوع جیسا ذہنی رُجحان“ کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔ (رومیوں ۱۵:۵) یوں، ہم اپنی زندگیوں اور دوسروں کیساتھ اپنے تعلقات میں اسکے قائمکردہ نمونے کی بہتر طور پر پیروی کر سکیں گے جو اُس نے ہمارے لئے قائم کِیا ہے۔—یوحنا ۱۳:۱۵۔
قابلِرسائی
۳، ۴. (ا)مرقس ۱۰:۱۳-۱۶ میں درج بیان کا پسمنظر کیا ہے؟ (ب) جب شاگردوں نے بچوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکا تو اس کا کیا ردِعمل تھا؟
۳ لوگ یسوع کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ کئی مواقع پر، ہر عمر اور پسمنظر کے لوگ بِلاروکٹوک اُسکے پاس آتے تھے۔ مرقس ۱۰:۱۳-۱۶ میں درج واقعہ پر غور کریں۔ یہ واقعہ اس کی خدمتگزاری کے آخر میں پیش آیا جب وہ اذیتناک موت کا سامنا کرنے کیلئے آخری مرتبہ یروشلیم جا رہا تھا۔—مرقس ۱۰:۳۲-۳۴۔
۴ اُس منظر کا تصور کریں۔ لوگ بچوں اور شیرخواروں کو یسوع کے پاس لانے لگے کہ وہ انہیں برکت دے۔b تاہم، شاگرد بچوں کو یسوع کے پاس آنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید شاگرد محسوس کرتے ہیں کہ یسوع ان تشویشناک ہفتوں کے دوران نہیں چاہتا کہ بچے اُسے تنگ کریں۔ لیکن اُنکی سوچ غلط تھی۔ جب یسوع کو یہ پتا چلا کہ شاگرد کیا کر رہے ہیں تو وہ اس سے خوش نہ ہؤا۔ یسوع یہ کہتے ہوئے بچوں کو اپنے پاس بلاتا ہے: ”بچوں کو میرے پاس آنے دو۔ انکو منع نہ کرو۔“ (مرقس ۱۰:۱۴) اس کے بعد وہ اُسکی حقیقی شفقت اور محبت کو ظاہر کرنے والا کام کرتا ہے۔ سرگزشت یوں بیان کرتی ہے: ”اُس نے انہیں اپنی گود میں لیا اور ان پر ہاتھ رکھ کر انکو برکت دی۔“ (مرقس ۱۰:۱۶) جب یسوع انہیں اپنی بانہوں میں لیتا ہے تو بچے یقیناً پُرسکون محسوس کرتے ہیں۔
۵. مرقس ۱۰:۱۳-۱۶ کا بیان ہمیں یسوع کی شخصیت کی بابت کیا بتاتا ہے؟
۵ یہ مختصر سا بیان ہمیں یسوع کی شخصیت کی بابت بہت کچھ بتاتا ہے۔ غور کریں کہ وہ قابلِرسائی تھا۔ اگرچہ وہ آسمان میں ایک اعلیٰ مرتبہ رکھتا تھا توبھی وہ ناکامل انسانوں کو ڈرانے دھمکانے یا حقیر جاننے والا نہیں تھا۔ (یوحنا ۱۷:۵) کیا یہ بات اہمیت کی حامل نہیں ہے کہ بچے بھی اس کے ساتھ پُرسکون محسوس کرتے تھے؟ یقیناً، وہ کبھی بھی ایک سردمہر اور افسردہ شخص کے پاس نہیں آتے ہونگے جو کبھی بھی مسکراتا یا خوش نہ ہوتا ہو! تمام عمر کے لوگ یسوع کے پاس آتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ ایک پُرتپاک، فکر رکھنے والا شخص ہے اور انہیں یہ اعتماد تھا کہ وہ انہیں کبھی بھی نہیں دُھتکارے گا۔
۶. بزرگ اپنے آپ کو زیادہ قابلِرسائی کیسے بنا سکتے ہیں؟
۶ اس بیان پر غور کرنے سے ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں، ’کیا مجھ میں مسیح کی عقل ہے؟ کیا مَیں قابلِرسائی ہوں؟‘ ان تشویشناک ایّام میں خدا کی بھیڑوں کو قابلِرسائی چرواہوں کی ضرورت ہے، ایسے آدمی جو ”طوفان سے چھپنے کی جگہ“ ہوں۔ (یسعیاہ ۳۲:۱، ۲؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱) اگر بزرگ اپنے بھائیوں میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اور انکی خاطر خود کو وقف کر دینے کیلئے تیار ہیں تو وہ اُن کی فکرمندی کو بھانپ لیں گے۔ وہ آپ کے چہرے کے تاثرات سے یہ دیکھ لیں گے، آپ کی آواز سے اسے محسوس کر لینگے اور آپ کے مشفقانہ انداز سے اسے سمجھ لینگے۔ ایسا حقیقی تپاک اور فکرمندی قابلِبھروسا فضا کو پیدا کر سکتے ہیں جسکی بدولت بچوں سمیت دوسرے لوگ بھی آپکے پاس آنا آسان پائینگے۔ ایک مسیحی خاتون وضاحت کرتی ہے کہ وہ ایک بزرگ سے کھل کر بات کرنے کے قابل کیوں تھی: ”اُس نے میرے ساتھ مشفقانہ اور دردمندانہ انداز میں بات کی تھی۔ ورنہ مَیں تو غالباً ایک لفظ بھی کہہ نہ پاتی۔ اس نے مجھے تحفظ کا احساس دلایا۔“
دوسروں کیلئے پاسولحاظ دکھانے والا
۷. (ا)یسوع نے کیسے ظاہر کِیا کہ وہ دوسروں کیلئے پاسولحاظ رکھتا تھا؟ (ب) یسوع نے نابینا آدمی کی بینائی بتدریج کیوں بحال کی؟
۷ یسوع پاسولحاظ دکھانے والا تھا۔ اسے دوسروں کے جذبات کا احساس تھا۔ وہ مصیبتزدہ لوگوں کی تکلیف سے متاثر ہوکر فوراً اُنکی تکلیف دُور کرنے کیلئے تیار ہو جاتا تھا۔ (متی ۱۴:۱۴) وہ دوسروں کی حدود اور ضروریات کا بھی خیال رکھتا تھا۔ (یوحنا ۱۶:۱۲) ایک مرتبہ لوگ ایک اندھے شخص کو یسوع کے پاس لائے اور اسے تندرست کرنے کے لئے اس کی منت کی۔ یسوع نے اس آدمی کی بینائی بحال کر دی لیکن اُس نے بتدریج ایسا کِیا۔ سب سے پہلے تو اس آدمی کو لوگوں کی غیرواضح صورتیں دکھائی دیں جو ”چلتے ہوئے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے درخت۔“ اس کے بعد، یسوع نے اس کی بینائی مکمل طور پر بحال کر دی۔ اس نے اس آدمی کو بتدریج شفا کیوں دی؟ اسکی وجہ یہ تھی کہ یہ آدمی تاریکی کا عادی تھا اور یکدم سورج کی روشنی اور دُنیا کو دیکھنے سے اسکے اعصابی نظام پر شدید دباؤ پڑ سکتا تھا لہٰذا، اُسے اس حالت سے بچانے کیلئے یسوع نے ایسا کِیا۔—مرقس ۸:۲۲-۲۶۔
۸، ۹. (ا)یسوع اور اس کے شاگردوں کے دِکپُلِس کے علاقے میں داخل ہونے کے فوراً بعد کیا واقع ہوا؟ (ب) یسوع کے بہرے آدمی کو شفا دینے کی بابت بیان کریں۔
۸ ذرا اس واقعہ پر بھی غور کریں جو ۳۲ س.ع. کی فسح کے بعد رُونما ہؤا۔ یسوع اور اس کے شاگرد گلیل کی جھیل کے مشرقی علاقے دِکپُلِس میں داخل ہو چکے تھے۔ وہاں، جلد ہی ایک بہت بڑی بِھیڑ نے انہیں ڈھونڈ لیا اور یسوع کے پاس بہت سے بیماروں اور معذوروں کو لائے اور اس نے انہیں اچھا کر دیا۔ (متی ۱۵:۲۹، ۳۰) دلچسپی کی بات ہے کہ یسوع ان میں سے ایک آدمی کو الگ لے گیا جو خاص توجہ کا مستحق تھا۔ انجیل نویس مرقس ہی اس واقعہ کو تحریر کر کے بیان کرتا ہے کہ کیا واقع ہؤا۔—مرقس ۷:۳۱-۳۵۔
۹ یہ آدمی بہرا اور ہکلا تھا۔ یسوع نے اس آدمی کی گھبراہٹ یا پریشانی کو شاید محسوس کر لیا تھا۔ یسوع نے اس کے بعد ایک غیرمعمولی کام کِیا۔ وہ اس آدمی کو بِھیڑ سے الگ، تنہائی کی جگہ پر لے گیا۔ اس کے بعد یسوع نے اس آدمی کو سمجھانے کیلئے کچھ اشارے کئے کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔ اس نے ”اپنی انگلیاں اُسکے کانوں میں ڈالیں اور تھوک کر اُسکی زبان چُھوئی۔“ (مرقس ۷:۳۳) اس کے بعد، یسوع نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک پُرخلوص التجا کی۔ ایسے اشاروں نے اُس آدمی پر یہ ضرور واضح کر دیا ہوگا کہ ’مَیں خدا کی قدرت سے تمہارے لئے کچھ کرنے والا ہوں۔‘ آخر میں یسوع نے کہا: ”کھل جا۔“ (مرقس ۷:۳۴) اس پر آدمی کی قوتِسماعت بحال ہو گئی اور وہ عام آدمی کی طرح بولنے لگا۔
۱۰، ۱۱. ہم کلیسیا اور خاندان میں دوسروں کے جذبات کیلئے کیسے پاسولحاظ دکھا سکتے ہیں؟
۱۰ یسوع نے دوسروں کیلئے کیسا پاسولحاظ دکھایا! اسے ان کے جذبات کا احساس تھا اور اسی ہمدردانہ رویے نے اُسے اُنکے جذبات کا پاسولحاظ رکھتے ہوئے کچھ کرنے کی تحریک دی۔ مسیحیوں کے طور پر، اس سلسلے میں مسیح کی عقل کو پیدا کرنا اور اس کا مظاہرہ کرنا ہمارے لئے اچھا ہوگا۔ بائبل ہمیں نصیحت کرتی ہے: ”سب کے سب یکدل اور ہمدرد رہو۔ برادرانہ محبت رکھو۔ نرم دل اور فروتن بنو۔“ (۱-پطرس ۳:۸) یہ بات یقیناً ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ اپنے قولوفعل میں ایسے طریقے اختیار کریں جن سے دوسروں کے احساسات اور جذبات کیلئے پاسولحاظ ظاہر ہو۔
۱۱ ہم کلیسیا میں دوسروں کی عزت کرنے سے یعنی ان کیساتھ ویسا ہی سلوک کرنے سے جیسا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کِیا جائے، انکے جذبات کیلئے پاسولحاظ دکھا سکتے ہیں۔ (متی ۷:۱۲) اس میں ہماری گفتگو اور طرزِگفتگو میں احتیاط برتنا شامل ہے۔ (کلسیوں ۴:۶) یاد رکھیں کہ ’بےتامل باتیں تلوار کی طرح چھید سکتی ہیں۔‘ (امثال ۱۲:۱۸) خاندانی حلقے کی بابت کیا ہے؟ حقیقت میں ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں۔ (افسیوں ۵:۳۳) وہ تلخ کلامی، سخت تنقید اور طعنآمیز باتوں سے گریز کرتے ہیں—جو ایسے گہرے جذباتی گھاؤ لگانے کا سبب بن سکتی ہیں جو آسانی سے نہیں بھرتے۔ بچوں کے بھی جذبات ہوتے ہیں اور شفیق والدین ان کا بھی پاسولحاظ رکھتے ہیں۔ جب اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسے والدین اپنے بچوں کے عزتِنفس کا احترام کرتے ہوئے اُنہیں غیرضروری احساسِندامت سے محفوظ رکھتے ہیں۔c (کلسیوں ۳:۲۱) جب ہم اس طرح سے دوسروں کیلئے پاسولحاظ دکھاتے ہیں تو ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم میں مسیح کی عقل ہے۔
دوسروں پر اعتماد کرنے کیلئے تیار
۱۲. یسوع اپنے شاگردوں کی بابت کونسا متوازن اور حقیقتپسندانہ نظریہ رکھتا تھا؟
۱۲ یسوع اپنے شاگردوں کی بابت ایک متوازن، حقیقتپسندانہ نظریہ رکھتا تھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ وہ کامل نہیں ہیں۔ تاہم وہ انسانی دلوں کو پڑھ سکتا تھا۔ (یوحنا ۲:۲۴، ۲۵) پھر بھی، اس نے نہ صرف انکی ناکاملیتوں پر بلکہ انکی خوبیوں پر بھی توجہ کی۔ اس نے ان آدمیوں میں چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو دیکھا جنہیں یہوواہ نے کھینچ لیا تھا۔ (یوحنا ۶:۴۴) اپنے شاگردوں کی بابت یسوع کا مثبت نظریہ ان کیساتھ اسکے سلوک اور برتاؤ سے نمایاں تھا۔ ایک بات تو یہ ہے کہ اس نے ان پر اعتماد کرنے میں رضامندی دکھائی۔
۱۳. یسوع نے کس طرح ظاہر کِیا کہ وہ اپنے شاگردوں پر اعتماد رکھتا تھا؟
۱۳ یسوع نے اس اعتماد کو کس طرح ظاہر کِیا؟ اس نے زمین پر سے جاتے وقت ایک بھاری ذمہداری اپنے ممسوح شاگردوں کے سپرد کی۔ اس نے اپنی بادشاہت کے عالمگیر مفادات کی نگہداشت کی ذمہداری انکے سپرد کی۔ (متی ۲۵:۱۴، ۱۵؛ لوقا ۱۲:۴۲-۴۴) اپنی خدمتگزاری کے دوران، اس نے چھوٹے، ضمنی طریقوں سے ظاہر کِیا کہ وہ ان پر اعتماد کرتا ہے۔ جب اس نے بِھیڑ کو کھانا کھلانے کیلئے معجزانہ طور پر باافراط خوراک فراہم کی تو اس نے خوراک کو تقسیم کرنے کی ذمہداری اپنے شاگردوں کو سونپی۔—متی ۱۴:۱۵-۲۱؛ ۱۵:۳۲-۳۷۔
۱۴. آپ مرقس ۴:۳۵-۴۱ میں درج بیان کی کیسے تلخیص کریں گے؟
۱۴ مرقس ۴:۳۵-۴۱ میں درج بیان پر بھی غور کریں۔ اس موقع پر یسوع اور اس کے شاگردوں نے کشتی لی اور گلیل کی جھیل کے پار مشرق کی طرف سفر شروع کِیا۔ ساحل سے کشتی کو دھکیلنے کے تھوڑی دیر بعد، یسوع کشتی کے پچھلے حصے میں جا کر گہری نیند سو گیا۔ تاہم، جلد ہی ایک ”بڑی آندھی چلی۔“ ایسی آندھیاں گلیل کی جھیل کیلئے غیرمعمولی نہیں تھیں۔ جھیل کے سطحسمندر سے ۷۰۰ فٹ نیچے ہونے کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں کی نسبت یہاں ہوا زیادہ گرم ہوتی ہے جسکی وجہ سے اچانک موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ علاوہازیں، تند ہوائیں شمال میں واقع کوہِحرمون سے یردن کی وادی میں آتی ہیں۔ یوں ایک لمحے کی پُرسکون فضا یکایک شدید آندھی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ذرا اس کی بابت سوچیں: یسوع بِلاشُبہ ان عام طوفانوں کی بابت جانتا تھا کیونکہ اس نے گلیل میں ہی پرورش پائی تھی۔ تاہم، وہ ماہیگیروں کے طور پر اپنے بعض شاگردوں کی مہارتوں پر اعتماد کی وجہ سے سکون سے سویا رہا۔—متی ۴:۱۸، ۱۹۔
۱۵. اپنے شاگردوں پر اعتماد رکھنے کے سلسلے میں یسوع کی رضامندی کی ہم کیسے نقل کر سکتے ہیں؟
۱۵ کیا ہم یسوع کی اپنے شاگردوں پر اعتماد کرنے کی رضامندی کی نقل کر سکتے ہیں؟ بعض اشخاص دوسروں کو ذمہداری دینا مشکل پاتے ہیں۔ گویا ہر کام ہمیشہ اُنہی کے قابو میں رہنا چاہئے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ’اگر کوئی کام درست طریقے سے کرنا ہے تو مجھے خود ہی کرنا چاہئے!‘ لیکن اگر ہمیں خود ہی ہر کام کرنا پڑے تو شاید ہم اپنے خاندان سے غیرضروری وقت چھیننے اور تھک ٹوٹ جانے کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر ہم دوسروں کو مناسب فرائض اور ذمہداریاں نہیں سونپتے تو ہم انہیں ضروری تجربے اور تربیت سے محروم کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دوسروں پر اعتماد کرنا سیکھنا اور اُنہیں ذمہداریاں سونپنا دانشمندانہ بات ہوگی۔ ہم دیانتداری سے خود سے یہ پوچھ کر اچھا کرتے ہیں کہ ’کیا اس معاملے میں میرے اندر مسیح کی عقل ہے؟ کیا مَیں یہ اعتماد کرتے ہوئے خوشی سے دوسروں کو ذمہداریاں سونپتا ہوں کہ وہ اپنی پوری کوشش کریں گے؟‘
اس نے اپنے شاگردوں پر یقین کا اظہار کِیا
۱۶، ۱۷. اگرچہ یسوع جانتا تھا کہ اس کے شاگرد اسکا ساتھ چھوڑ دیں گے تو بھی اپنی زمینی زندگی کی آخری رات اس نے انہیں کونسی یقیندہانی کرائی؟
۱۶ یسوع نے ایک اَور طریقے سے اپنے شاگردوں کی بابت مثبت نظریے کا مظاہرہ کِیا۔ اس نے انہیں بتایا کہ اُسے ان پر بھروسہ ہے۔ یہ بات ان ہمتافزا الفاظ سے بالکل عیاں تھی جو اس نے اپنی زمینی زندگی کی آخری رات اپنے رسولوں سے کہے تھے۔ غور کریں کہ کیا واقع ہؤا۔
۱۷ یہ یسوع کیلئے مصروفترین شام تھی۔ اس نے اپنے رسولوں کے پاؤں دھونے سے اُنہیں فروتنی کا معروضی سبق سکھایا تھا۔ اِسکے بعد، اس نے اُس عشائیے کو رائج کِیا جو اس کی موت کی یادگار ہو گا۔ بعدازاں، رسولوں نے ایک مرتبہ پھر سخت تکرار شروع کر دی کہ ان میں بڑا کون ہے۔ ہمیشہ صبر سے کام لینے والے یسوع نے انہیں ڈانٹنے کی بجائے انکے ساتھ استدلال کِیا۔ اس نے انہیں بتایا کہ آگے کیا ہونے والا ہے: ”تم سب اسی رات میری بابت ٹھوکر کھاؤ گے کیونکہ لکھا ہے کہ مَیں چرواہے کو مارونگا اور گلّہ کی بھیڑیں پراگندہ ہو جائینگی۔“ (متی ۲۶:۳۱؛ زکریاہ ۱۳:۷) وہ جانتا تھا کہ اس کے قریبی ساتھی ضرورت کے وقت اسکا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ پھربھی، اس نے انہیں رَدّ نہیں کِیا۔ اس کے برعکس، اس نے انہیں بتایا: ”لیکن مَیں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے گلیل کو جاؤنگا۔“ (متی ۲۶:۳۲) مزیدبرآں، اس نے انہیں یقین دلایا کہ اگرچہ وہ اسے چھوڑ دیں گے توبھی وہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑیگا۔ جب یہ تکلیفدہ آزمائش گزر جائے گی تو وہ ان سے دوبارہ ملے گا۔
۱۸. گلیل میں، یسوع نے کونسی اہم ذمہداری اپنے شاگردوں کے سپرد کی اور رسولوں نے اس کی مطابقت میں کیسے عمل کِیا؟
۱۸ یسوع اپنے قول کا پکا تھا۔ بعدازاں، قیامتیافتہ یسوع ۱۱ رسولوں پر ظاہر ہؤا جو بدیہی طور پر کئی دوسرے لوگوں کیساتھ وہاں جمع تھے۔ (متی ۲۸:۱۶، ۱۷؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۶) وہاں یسوع نے ایک بھاری ذمہداری اُنکے سپرد کی: ”پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور انکو باپ اور بیٹے اور رُوحاُلقدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور انکو یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تمکو حکم دیا۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) اعمال کی کتاب ہمیں واضح شہادت دیتی ہے کہ رسولوں نے اس ذمہداری کو پورا کِیا تھا۔ انہوں نے پہلی صدی میں خوشخبری کی منادی کے کام میں وفاداری سے پیشوائی کی۔—اعمال ۲:۴۱، ۴۲؛ ۴:۳۳؛ ۵:۲۷-۳۲۔
۱۹. یسوع کی قیامت کے بعد اس کے کام مسیح کی عقل کی بابت ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟
۱۹ یہ فہمافزا سرگزشت ہمیں مسیح کی عقل کی بابت کیا سکھاتی ہے؟ یسوع اپنے رسولوں کی بدترین حالت دیکھ چکا تھا پھر بھی وہ ان سے ”آخر تک محبت رکھتا رہا۔“ (یوحنا ۱۳:۱) ان کی تقصیروں کے باوجود، اس نے ان پر واضح کِیا کہ اسے ان پر یقین ہے۔ غور کریں کہ یسوع کا اعتماد غلط نہیں تھا۔ اس نے جس اعتماد اور یقین کا اظہار کِیا تھا اس نے بِلاشُبہ انہیں تقویت دی کہ جس کام کو انجام دینے کا حکم اس نے انہیں دیا وہ اسے پورا کرنے کیلئے اپنے دلوں میں پُرعزم ہوں۔
۲۰، ۲۱. اپنے ساتھی مسیحیوں کی بابت ہم کیسے مثبت نظریہ ظاہر کر سکتے ہیں؟
۲۰ اس سلسلے میں ہم مسیح کی عقل کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟ ساتھی مسیحیوں کی بابت قنوطی نہ بنیں۔ اگر آپ صرف خامیوں پر ہی نگاہ رکھتے ہیں تو پھر آپکے اقوال اور افعال انہی کو نمایاں کرینگے۔ (لوقا ۶:۴۵) تاہم، بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ محبت ”سب کچھ یقین کرتی ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۷) محبت مثبت ہے، منفی نہیں۔ یہ نفاق ڈالنے کی بجائے اتحاد کو فروغ دیتی ہے۔ لوگ ڈانٹڈپٹ کی نسبت محبت اور حوصلہافزائی کیلئے زیادہ خوشی سے جوابیعمل دکھاتے ہیں۔ ہم ان پر اعتماد ظاہر کرنے سے ان کی ہمتافزائی اور حوصلہافزائی کر سکتے ہیں۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۱) مسیح کی مانند، اگر ہم اپنے بھائیوں کی بابت مثبت نظریہ رکھیں تو ہم ایسے طریقوں سے ان کیساتھ پیش آئیں گے جو ان کی ہمت بڑھائے گا اور انکی عمدہ خوبیوں کو سامنے لائے گا۔
۲۱ مسیح کی عقل کو فروغ دینا اور اُسے ظاہر کرنا یسوع کے مخصوص کاموں کی نقل کرنے سے زیادہ مطلب رکھتا ہے۔ جیسا کہ پچھلے مضمون میں بیان کِیا گیا ہے اگر ہم واقعی یسوع کی طرح عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مختلف معاملات کی بابت اُسکا نقطۂنظر اپنانا ہوگا۔ اناجیل ہمیں اس کی شخصیت کے ایک اَور پہلو یعنی اس کے تفویضکردہ کام کی بابت اس کے خیالات اور احساسات کو سمجھنے کے قابل بناتی ہیں، جس پر اگلے مضمون میں گفتگو کی جائیگی۔
[فٹنوٹ]
a اس دستاویز میں یسوع کی مبیّنہ جسمانی وضعقطع بیان کرتے ہوئے جعلساز اس کے بالوں، داڑھی اور آنکھوں کا رنگ بھی بتاتا ہے۔ بائبل مترجم ایڈگر جے. گڈسپیڈ واضح کرتا ہے کہ یہ جھوٹی دستاویز ”یسوع کی ذاتی وضعقطع کی بابت مُصوّروں کی دستی کُتب میں پائے جانے والے بیانات کو فروغ دینے کیلئے تیار کی گئی تھی۔“
b بظاہر، بچوں کی عمریں مختلف تھیں۔ جس لفظ کا ترجمہ یہاں ”بچوں“ کِیا گیا ہے وہ یائیر کی ۱۲سالہ بیٹی کیلئے بھی استعمال ہؤا ہے۔ (مرقس ۵:۳۹، ۴۲؛ ۱۰:۱۳) تاہم، اس کے متوازی بیان میں لوقا ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو شیرخواروں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔—لوقا ۱:۴۱؛ ۲:۱۲؛ ۱۸:۱۵۔
c دی واچٹاور، اپریل ۱، ۱۹۹۸ کے شمارے میں مضمون دیکھیں ”کیا آپ انکے وقار کا احترام کرتے ہیں؟“
-
-
کیا آپ یسوع کی طرح عمل کرنے کی تحریک پاتے ہیں؟مینارِنگہبانی—2000ء | 15 فروری
-
-
کیا آپ یسوع کی طرح عمل کرنے کی تحریک پاتے ہیں؟
”اُس نے . . . بڑی بِھیڑ دیکھی اور اُسے اُن پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند تھے جنکا چرواہا نہ ہو اور وہ اُنکو . . . تعلیم دینے لگا۔“—مرقس ۶:۳۴۔
۱. لوگوں کا قابلِتعریف صفات کا مظاہرہ کرنا قابلِفہم بات کیوں ہے؟
پوری تاریخ کے دوران بہتیرے اشخاص قابلِتعریف صفات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ آپ اس کی وجہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہوواہ خدا محبت، مہربانی، فیاضی اور دیگر صفات کا مالک ہے اور انہیں ظاہر کرتا ہے جن کی ہم توقیر کرتے ہیں۔ انسان خدا کی شبِیہ پر خلق کئے گئے تھے۔ پس ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں بہتیرے انسان کسی حد تک محبت، مہربانی، دردمندی اور دیگر الہٰی صفات کا مظاہرہ کرتے ہیں، کئی تو ضمیر سے بھی کام لیتے ہیں۔ (پیدایش ۱:۲۶؛ رومیوں ۲:۱۴، ۱۵) تاہم، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بعض دوسروں کی نسبت بِلاہچکچاہٹ ان صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔
۲. بعض نیک کام کونسے ہیں جو لوگ شاید یہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں کہ وہ مسیح کی نقل کر رہے ہیں؟
۲ ممکن ہے کہ آپ ایسے مردوزن سے واقف ہوں جو اکثر بیماروں کی عیادت کیلئے جاتے، معذوروں کیلئے رحم کا اظہار کرتے یا فیاضی سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ ذرا اُن لوگوں کی بابت بھی سوچیں جنہوں نے رحم سے تحریک پا کر اپنی ساری زندگی کوڑھ کے ہسپتالوں یا یتیمخانوں میں کام کرنے کے لئے وقف کر دی ہے، پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو ہسپتالوں میں رضاکارانہ خدمت انجام دیتے ہیں، یا وہ لوگ جو بےخانماں یا پناہگزینوں کی مدد کیلئے کوشاں ہیں۔ غالباً، ان میں سے بعض محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے سے یسوع کی نقل کر رہے ہیں جس نے مسیحیوں کیلئے نمونہ قائم کِیا ہے۔ ہم اناجیل میں پڑھتے ہیں کہ مسیح نے بیماروں کو شفا دی اور بھوکوں کو کھانا کھلایا۔ (مرقس ۱:۳۴؛ ۸:۱-۹؛ لوقا ۴:۴۰) یسوع کی محبت، شفقت اور دردمندی کے اظہارات ”مسیح کی عقل“ کے آئینہدار ہیں جس نے اپنے آسمانی باپ کی نقل کی تھی۔—۱-کرنتھیوں ۲:۱۶۔
۳. یسوع کے نیک کاموں کے متعلق متوازن نظریہ رکھنے کیلئے ہمیں کس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے؟
۳ تاہم، کیا آپ نے مشاہدہ کِیا ہے کہ آجکل یسوع کی محبت اور دردمندی سے متاثر ہونے والے بہتیرے اشخاص مسیح کی عقل کی ایک بنیادی خصوصیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں؟ ہم مرقس ۶ باب کا بغور جائزہ لینے سے اس کی بصیرت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم وہاں پڑھتے ہیں کہ لوگ ایک بیمار کو یسوع کے پاس لائے کہ وہ اُسے شفا دے۔ ہم سیاقوسباق سے بھی سیکھتے ہیں کہ یسوع نے اپنے پاس آنے والے ہزاروں لوگوں کو بھوکا دیکھ کر انہیں معجزانہ طور پر سیر کِیا تھا۔ (مرقس ۶:۳۵-۴۴، ۵۴-۵۶) بیماروں کو شفا دینا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا مشفقانہ دردمندی کے نمایاں اظہارات تھے لیکن کیا یہی وہ اوّلین طریقے تھے جن سے یسوع نے دوسروں کی مدد کی تھی؟ نیز ہم محبت، مہربانی اور دردمندی کے اُسکے کامل نمونے کی نقل کیسے کر سکتے ہیں جیسے کہ اس نے بھی یہوواہ کی نقل کی تھی؟
روحانی ضروریات کیلئے جوابیعمل دکھانے کی تحریک پائی
۴. مرقس ۶:۳۰-۳۴ کے بیان کا پسمنظر کیا ہے؟
۴ یسوع نے اپنے اِردگِرد کے لوگوں کیلئے بنیادی طور پر انکی روحانی ضروریات کی وجہ سے ترس محسوس کِیا۔ یہ ضروریات جسمانی ضروریات سے زیادہ اہمیت کی حامل تھیں۔ مرقس ۶:۳۰-۳۴ کے بیان پر غور کریں۔ یہاں پر درج واقعہ ۳۲ س.ع. کی فسح کے وقت کے قریب، گلیل کی جھیل کے کنارے پر رُونما ہؤا۔ رسولوں کے پاس خوش ہونے کی معقول وجہ تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ایک وسیع دورہ ختم کرنے کے بعد، وہ یسوع کے پاس آئے اور بِلاشُبہ اسے اپنے تجربات بتانے کے مشتاق تھے۔ تاہم، وہاں ایک بِھیڑ جمع ہو گئی۔ یہ بِھیڑ اتنی بڑی تھی کہ یسوع اور اس کے رسول نہ کھانا کھا سکتے تھے اور نہ ہی آرام کر سکتے تھے۔ یسوع نے رسولوں سے کہا: ”تم آپ الگ ویران جگہ میں چلے آؤ اور ذرا آرام کرو۔“ (مرقس ۶:۳۱) غالباً کفرنحوم کے نزدیک ایک کشتی میں بیٹھ کر وہ گلیل کی جھیل کے پار ایک ویران جگہ چلے گئے۔ لیکن بِھیڑ کنارے کیساتھ ساتھ بھاگ کر کشتی سے پہلے وہاں پہنچ گئی۔ یسوع اب کیسا جوابیعمل دکھائے گا؟ کیا وہ اپنے آرام میں خلل پڑنے کی وجہ سے برہم ہو گیا تھا؟ ہرگز نہیں!
۵. اپنے پاس آنے والی بِھیڑ کی بابت یسوع نے کیسا محسوس کِیا اور اس کے جواب میں اس نے کیا کِیا؟
۵ اپنے انتظار میں کھڑے ہزاروں لوگوں کو دیکھ کر جس میں بیمار لوگ بھی شامل تھے یسوع کا دل رحم سے بھر گیا۔ (متی ۱۴:۱۴؛ مرقس ۶:۴۴) یسوع کے رحم اور ردِعمل پر توجہ مبذول کراتے ہوئے مرقس لکھتا ہے: ”اُس نے . . . بڑی بِھیڑ دیکھی اور اُسے اُن پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند تھے جنکا چرواہا نہ ہو اور وہ اُنکو بہت سی باتوں کی تعلیم دینے لگا۔“ (مرقس ۶:۳۴) یسوع نے لوگوں کے بڑے ہجوم کو ہی نہیں دیکھا۔ اس نے روحانی حاجتمندوں کو دیکھا تھا۔ وہ بھٹکی ہوئی بےیارومددگار بھیڑوں کی مانند تھے جن کا کوئی چرواہا نہیں تھا کہ انہیں ہری چراگاہوں کی طرف لے جائے یا انکی حفاظت کرے۔ یسوع جانتا تھا کہ سنگدل مذہبی راہنما جنہیں مبیّنہ طور پر فکر رکھنے والے چرواہے ہونا چاہئے تھا، درحقیقت عام لوگوں کی حقارت کرتے اور انکی روحانی ضروریات سے غفلت برتتے تھے۔ (حزقیایل ۳۴:۲-۴؛ یوحنا ۷:۴۷-۴۹) یسوع اُن کیساتھ مختلف طریقے سے پیش آتا اور اُن کیلئے زیادہ سے زیادہ بھلائی کے کام انجام دیتا تھا۔ وہ انہیں خدا کی بادشاہت کی بابت تعلیم دینے لگا۔
۶، ۷. (ا)اناجیل کے مطابق لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں یسوع کس چیز کو ترجیح دیتا تھا؟ (ب) یسوع نے کس محرک کیساتھ منادی کی اور تعلیم دی؟
۶ ایک مماثل بیان پر غور کیجئے جس میں اسی بات کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ لوقا نے تحریر کِیا جو ایک طبیب تھا اور دوسروں کی تندرستی میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ ”بِھیڑ [یسوع] کے پیچھے گئی اور وہ خوشی کے ساتھ اُن سے ملا اور اُن سے خدا کی بادشاہی کی باتیں کرنے لگا اور جو شفا پانے کے محتاج تھے اُنہیں شفا بخشی۔“ (لوقا ۹:۱۱؛ کلسیوں ۴:۱۴) اگرچہ یہ بات ہر معجزے کی سرگزشت میں تو نہیں پائی جاتی تو بھی لوقا کا الہامی بیان پہلے کیا وضاحت پیش کرتا ہے؟ حقیقت یہ تھی کہ یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی۔
۷ جس بات پر مرقس ۶:۳۴ میں زور دیا گیا ہے یہ اُس سے متفق ہے۔ یہ آیت صاف بیان کرتی ہے کہ یسوع نے کیسے بنیادی طور پر اپنے ترس کا اظہار کرنے کی تحریک پائی تھی۔ اس نے لوگوں کی روحانی ضروریات سے اثرپذیر ہو کر اُنہیں تعلیم دی۔ اپنی خدمتگزاری کے شروع میں یسوع کہہ چکا تھا: ”مجھے اَور شہروں میں بھی خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضرور ہے کیونکہ مَیں اسی لئے بھیجا گیا ہوں۔“ (لوقا ۴:۴۳) تاہم، اگر ہم یہ سوچیں کہ یسوع بادشاہتی پیغام کی منادی محض رسمی طور پر کرتا تھا یا اسے ایک ایسا کام خیال کرتا تھا جسے ہر حال میں پورا کرنا اُسکا فرض تھا تو ہم غلطی پر ہونگے۔ اِسکی بجائے، لوگوں کیلئے مشفقانہ دردمندی نے ہی اُسے بنیادی طور پر اُنہیں خوشخبری سنانے کی تحریک دی تھی۔ خدا کی بادشاہت کی بابت سچائی کو جاننے، قبول کرنے اور اسکی قدر کرنے میں مدد دینا ہی وہ قطعی بھلائی تھی جو یسوع بیماروں، بدروحگرفتہ لوگوں، غریبوں یا بھوکوں سمیت تمام لوگوں کیلئے انجام دے سکتا تھا۔ یہوواہ کی حاکمیت کی سربلندی اور انسانوں کیلئے دائمی برکات فراہم کرنے میں بادشاہت کے کردار کی وجہ سے یہ سچائی مرکزی اہمیت کی حامل تھی۔
۸. یسوع نے اپنی منادی اور تعلیم کی بابت کیسا محسوس کِیا؟
۸ بادشاہت کی بابت یسوع کی سرگرم منادی ہی اُسکے زمین پر آنے کی بنیادی وجہ تھی۔ اپنی زمینی خدمتگزاری کے اختتام پر یسوع نے پیلاطُس کو بتایا: ”مَیں اسلئے پیدا ہؤا اور اس واسطے دُنیا میں آیا ہوں کہ حق پر گواہی دوں۔ جو کوئی حقانی ہے میری آواز سنتا ہے۔“ (یوحنا ۱۸:۳۷) ہم نے پچھلے دو مضامین سے سیکھ لیا ہے کہ یسوع نرمدل—دوسروں کی پرواہ کرنے والا، قابلِرسائی، بامروت، دوسروں پر اعتماد کرنے والا اور سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا—شخص تھا۔ اگر ہم واقعی مسیح کی عقل کو جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں اسکی شخصیت کے ان پہلوؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سمجھنا بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے کہ مسیح کی عقل میں منادی اور تعلیم کے کام کو ویسی ہی ترجیح دینا شامل ہے جیسی اُس نے دی تھی۔
اس نے دوسروں کو گواہی دینے کی تاکید کی
۹. کن کیلئے منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام کو ترجیح ملنی تھی؟
۹ محبت اور دردمندی کے اظہار کے طور پر منادی اور تعلیم کو ترجیح دینا صرف یسوع تک محدود نہیں تھا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو اپنے محرکات، ترجیحات اور کاموں کی نقل کرنے کی تاکید کی۔ مثال کے طور پر، جب یسوع نے اپنے ۱۲ رسولوں کو منتخب کر لیا تو اِس کے بعد انہیں کیا کرنا تھا؟ مرقس ۳:۱۴، ۱۵ ہمیں بتاتی ہیں: ”اُس نے بارہ کو مقرر کِیا تاکہ اُس کے ساتھ رہیں اور . . . اُنکو [بھیجا] کہ منادی کریں۔ اور بدروحوں کو نکالنے کا اختیار رکھیں۔“ کیا آپ رسولوں کے لئے کسی ترجیح کو دیکھتے ہیں؟
۱۰، ۱۱. (ا)رسولوں کو بھیجتے وقت یسوع نے انہیں کیا کرنے کیلئے کہا تھا؟ (ب) رسولوں کو بھیجنے کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
۱۰ وقت آنے پر یسوع نے ۱۲ رسولوں کو دوسروں کو شفا دینے اور بدروحوں کو نکالنے کی صلاحیت سے نوازا۔ (متی ۱۰:۱؛ لوقا ۹:۱) اس کے بعد اس نے انہیں ”اؔسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں“ کے پاس بھیجا۔ اُنہیں کیا کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا؟ یسوع نے انہیں ہدایت دی: ”چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ بیماروں کو اچھا کرنا۔ مُردوں کو جلانا۔ کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا۔ بدروحوں کو نکالنا۔“ (متی ۱۰:۵-۸؛ لوقا ۹:۲؛) درحقیقت، انہوں نے کیا کِیا؟ ”اُنہوں نے روانہ ہو کر [۱] منادی کی کہ توبہ کرو۔ اور [۲] بہت سی بدروحوں کو نکالا اور بہت سے بیماروں کو تیل مل کر اچھا کِیا۔“—مرقس ۶:۱۲، ۱۳۔
۱۱ چونکہ ہر واقعہ میں تعلیم دینے کا پہلے ذکر نہیں کِیا گیا اسلئے کیا مذکورہبالا ترتیب کی پابندی کرنا ترجیحات یا متعلقہ محرکات کے معاملے پر حد سے زیادہ زور دینے کے مترادف ہوگا؟ (لوقا ۱۰:۱-۹) درحقیقت، ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ بیشتر مرتبہ شفا سے پہلے تعلیم کا ذکر کِیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیاقوسباق پر غور کریں۔ یسوع ۱۲ رسولوں کو بھیجنے سے پہلے، بِھیڑ کی حالت دیکھ کر بہت زیادہ متاثر ہؤا تھا۔ ہم پڑھتے ہیں: ”یسوؔع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور انکے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری دور کرتا رہا۔ اور جب اس نے بِھیڑ کو دیکھا تو اسکو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ ان بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ تھے۔ تب اس نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں۔ پس فصل کے مالک کی منت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیج دے۔“—متی ۹:۳۵-۳۸۔
۱۲. یسوع اور رسولوں کے معجزانہ کام کونسا اضافی مقصد انجام دے سکتے تھے؟
۱۲ اس کے ساتھ رہنے سے رسول کسی حد تک مسیح کی عقل حاصل کر سکتے تھے۔ وہ سمجھ سکتے تھے کہ لوگوں کیلئے شفقت اور دردمندی کا حقیقی جذبہ رکھنے میں بادشاہت کی بابت منادی کرنا اور تعلیم دینا شامل ہے—جو انکے نیک کاموں کا اہم پہلو بھی ہے۔ اس کی مطابقت میں، جسمانی نوعیت کے عمدہ کام جیسے کہ بیماروں کو شفا دینا محض ضرورتمندوں کی مدد کرنے سے زیادہ کچھ سرانجام دیتے تھے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ بعض لوگ شفاؤں اور معجزانہ خوراک کی فراہمی سے ضرور مائل ہوئے ہونگے۔ (متی ۴:۲۴، ۲۵؛ ۸:۱۶؛ ۹:۳۲، ۳۳؛ ۱۴:۳۵، ۳۶؛ یوحنا ۶:۲۶) تاہم، جسمانی مدد کے علاوہ، درحقیقت ان کاموں نے مشاہدین کو یہ تسلیم کرنے کی تحریک دی کہ یسوع خدا کا بیٹا اور وہ ”نبی“ ہے جس کی موسیٰ نے پیشینگوئی کی تھی۔—یوحنا ۶:۱۴؛ استثنا ۱۸:۱۵۔
۱۳. استثنا ۱۸:۱۸ میں پیشینگوئی آنے والے ”نبی“ کے کس کردار پر زور دیتی ہے؟
۱۳ یہ بات اہمیت کی حامل کیوں تھی کہ یسوع ”نبی“ تھا؟ درحقیقت، اس کے کس کلیدی کردار کی پیشینگوئی کی گئی تھی؟ کیا معجزانہ شفاؤں یا دردمندی سے بھوکوں کے لئے کھانا فراہم کرنے کو اس ”نبی“ کی وجۂشہرت ہونا تھا؟ استثنا ۱۸:۱۸ نے پیشگوئی کی: ”مَیں اُن کے لئے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری [موسیٰ] مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُس کے مُنہ میں ڈالونگا اور جوکچھ مَیں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہیگا۔“ اگرچہ رسولوں نے مشفقانہ جذبات کا اظہار کرنا سیکھ لیا تھا توبھی اُنہوں نے یہ تسلیم کِیا کہ مسیح کی عقل کو انکی منادی اور تعلیمی کارگزاری سے بھی نمایاں ہونا تھا۔ اس سے وہ لوگوں کے لئے زیادہ بھلائی کے کام انجام دے پائیں گے۔ اس طرح سے بیمار اور غریب لوگ محض قلیل انسانی عرصۂحیات یا ایک یا دو وقت کی روٹی تک محدود فوائد کی بجائے دائمی فوائد حاصل کر سکتے تھے۔—یوحنا ۶:۲۶-۳۰۔
آجکل مسیح کی عقل پیدا کریں
۱۴. ہمارے منادی کے کام میں مسیح کی عقل رکھنا کس طرح سے شامل ہے؟
۱۴ ہم میں سے کسی کو بھی یہ محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ مسیح کی عقل صرف پہلی صدی تک ہی محدود تھی یعنی صرف یسوع اور اُن رسولوں کیلئے تھی جنکی بابت رسول پولس نے لکھا: ”ہم میں مسیح کی عقل ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۶) پس ہم خوشی سے تسلیم کرتے ہیں کہ خوشخبری کی منادی کرنا اور شاگرد بنانا ہمارا فرض ہے۔ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) تاہم، اس کام کو کرنے کیلئے اپنے محرکات پر غور کرنا مفید ثابت ہو گا۔ اسے محض ڈیوٹی نہیں سمجھنا چاہئے۔ خدا کی محبت ہمارے لئے خدمتگزاری میں حصہ لینے کی اوّلین وجہ ہے اور حقیقی طور پر یسوع کی مانند بننے میں دردمندی سے تحریک پا کر منادی کرنا اور تعلیم دینا شامل ہے۔—متی ۲۲:۳۷-۳۹۔
۱۵. دردمندی ہماری عوامی خدمتگزاری کا ایک موزوں حصہ کیوں ہے؟
۱۵ یہ سچ ہے کہ ہمارے لئے ہم جیسے عقائد نہ رکھنے والے اشخاص کیلئے دردمندی محسوس کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا ہے بالخصوص جب ہم بےحسی، استرداد یا مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم، اگر لوگوں کیلئے ہماری محبت اور دردمندی ختم ہو جاتی ہے تو ہم مسیحی خدمتگزاری میں نہایت اہم محرک سے محروم ہو سکتے ہیں۔ پس، ہم دردمندی کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ ہم یسوع کی نظر سے لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ”ان بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ“ ہیں۔ (متی ۹:۳۶) کیا یہ بات آجکل بیشتر لوگوں کی حالت کی عکاسی نہیں کرتی؟ اُنہیں جھوٹے مذہبی چرواہوں نے نظرانداز اور روحانی طور پر اندھا کر دیا ہے۔ نتیجتاً، وہ بائبل میں پائی جانے والی درست راہنمائی اور ان فردوسی حالتوں کو نہیں جانتے جو خدا کی بادشاہت ہماری زمین پر عنقریب لائے گی۔ وہ بادشاہی اُمید کے بغیر روزمرّہ زندگی کے مسائل—غربت، خاندانی ناچاقی، بیماری اور موت کا سامنا کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اُنکی ضرورت کی چیز ہے: اس وقت آسمان میں قائمشُدہ خدا کی بادشاہت کی بابت زندگیبخش خوشخبری!
۱۶. ہمیں دوسروں کو خوشخبری میں کیوں شریک کرنا چاہئے؟
۱۶ جب آپ اپنے اِردگِرد لوگوں کی روحانی ضروریات پر غور کرتے ہیں تو کیا آپ کا دل آپ کو خدا کے پُرمحبت مقصد کی بابت انہیں بتانے کیلئے اپنی حتیالمقدور کوشش کرنے کی تحریک نہیں دیتا؟ جیہاں، ہمارا کام دردمندانہ ہے۔ جب ہم لوگوں کیلئے یسوع جیسا احساس رکھتے ہیں تو یہ ہمارے لبولہجے، ہمارے چہرے کے تاثرات، ہمارے طرزِتعلیم سے عیاں ہوگا۔ یہ سب ہمارے پیغام کو ان لوگوں کیلئے اَور زیادہ دلکش بنائے گا جو ”ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کئے گئے“ ہیں۔—اعمال ۱۳:۴۸۔
۱۷. (ا)کن طریقوں سے ہم دوسروں کیلئے اپنی محبت اور دردمندی ظاہر کر سکتے ہیں؟ (ب) ہمارے پاس نیک کام کرنے یا عوامی خدمتگزاری میں شرکت کرنے کے معاملے میں انتخاب کی گنجائش کیوں نہیں ہے؟
۱۷ ہماری محبت اور دردمندی کو ہمارے طرزِزندگی سے بھی نمایاں ہونا چاہئے۔ اس میں پسماندہ، بیمار اور غریب لوگوں کیلئے مہربان ہونا—اُنکی تکلیف کو کم کرنے کیلئے اپنی معقول کوشش کرنا—شامل ہے۔ یہ اپنے قولوفعل سے موت کے باعث اپنے عزیز کو کھو بیٹھنے والے لوگوں کے غم کو دُور کرنے کی ہماری کوشش کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ (لوقا ۷:۱۱-۱۵؛ یوحنا ۱۱:۳۳-۳۵) تاہم، محبت، مہربانی اور دردمندی کے ایسے اظہارات کو ہمارے نیک کاموں کا اہم مرکز نہیں بننا چاہئے، جیسا کہ بعض انسان دوستی کے علمبرداروں کے معاملے میں ہے۔ اگر مسیحی منادی اور تعلیم کے کام میں شرکت سے انکا اظہار نہیں کِیا جاتا توپھر پہلے بیانکردہ الہٰی صفات سے تحریک پانے والی کاوشوں کا کوئی دائمی فائدہ نہیں ہے۔ یاد کریں کہ یسوع نے یہودی مذہبی لیڈروں کی بابت کیا کہا تھا: ”تم . . . پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دَہیکی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔“ (متی ۲۳:۲۳) یسوع کیلئے اس سلسلے میں کوئی انتخاب نہیں تھا کہ آیا وہ لوگوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنے یا زندگیبخش روحانی معاملات کی تعلیم دینے سے اُنکی مدد کریگا۔ یسوع نے دونوں کام کئے۔ پھربھی، یہ بات واضح ہے کہ اس کا تعلیمی کام سب سے اہم تھا کیونکہ اس سے وہ دائمی مدد کر سکتا تھا۔—یوحنا ۲۰:۱۶۔
۱۸. مسیح کی عقل پر غور کرنے سے ہمیں کس چیز کی تحریک ملنی چاہئے؟
۱۸ ہم کتنے شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ہم پر مسیح کی عقل کو آشکارا کِیا ہے! اناجیل کے ذریعے، ہم کبھی ہو گزرنے والے ایسے عظیمترین انسان کے خیالات، احساسات، اوصاف، افعال اور ترجیحات کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ بائبل یسوع کی بابت جو کچھ آشکارا کرتی ہے اسے پڑھنے، اُس پر غوروخوض کرنے اور اُسے عمل میں لانے کا انحصار ہم پر ہے۔ یاد رکھیں کہ اگر ہمیں واقعی یسوع کی طرح عمل کرنا ہے تو ہمیں ناکامل انسان ہونے کے باوجود اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئےکار لاتے ہوئے پہلے اُسکی طرح سوچنا، محسوس کرنا اور مختلف معاملات کا جائزہ لینا سیکھنا ہوگا۔ پس، آئیے ہم مسیح کی عقل پیدا کرنے اور اس کا مظاہرہ کرنے کا عزم کریں۔ زندگی گزارنے اور لوگوں کیساتھ اپنے برتاؤ میں اس سے بہتر کوئی اَور طریقہ نہیں، نیز ہمارے لئے اور دوسرے لوگوں کیلئے اپنے شفیق خدا، یہوواہ کی قربت میں آنے کا اس سے بہتر کوئی اَور طریقہ نہیں جسکا اُس نے کامل عکس پیش کِیا تھا۔—۲-کرنتھیوں ۱:۳؛ عبرانیوں ۱:۳۔
-
-
کیا آپ یسوع کی طرح عمل کرنے کی تحریک پاتے ہیں؟مینارِنگہبانی—2000ء | 15 فروری
-
-
[صفحہ ۲۴ پر تصویر]
-