یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟
    مینارِنگہبانی—1992ء | 1 ستمبر
    • کیونکہ جب بنی‌آدم کے خالق نے پہلی عورت کو پہلے آدمی کو شادی میں دے دیا تو اس نے آدمی کو اسکی بیوی اور آئندہ کو انکے بچوں کا سر ہونے کیلئے مقرر کر دیا۔ یہی معقول بھی تھا۔ لوگوں کے کسی منظم گروپ میں، کسی کو پیشوائی کرنے اور آخری فیصلے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شادی کے معاملے میں، خالق نے فرمان جاری کیا کہ ”‏شوہر بیوی کا سر ہے۔“‏ افسیوں ۵:‏۲۳۔

  • شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟
    مینارِنگہبانی—1992ء | 1 ستمبر
    • ایک جابرفرمانروا نہیں

      ایک شوہر کو اپنے اختیار کو کس طرح عمل میں لانا چاہیے؟ خدا کے بیٹے کے عمدہ نمونے کی پیروی کرنے سے۔ بائبل کہتی ہے:‏ ”‏شوہر بیوی کا سر ہے جیسے‌کہ مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔ اے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کرکے اپنے آپ کو اس کے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۲۳، ۲۵)‏ یسوع مسیح کا سرداری کو عمل میں لانا کلیسیا کے لئے ایک برکت تھی۔ وہ ایک جابر فرمانروانہیں تھا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو محدود اور مظلوم ہونے کا احساس نہ ہونے دیا۔ اس کی بجائے، اس نے ان کے لئے اپنے پرمحبت اور رحمدلانہ برتاؤ سے سب کا احترام حاصل کیا۔ اپنی بیویوں کے ساتھ اپنے برتاؤ میں شوہروں کے لئے پیروی کرنے کا کیا ہی عمدہ نمونہ ہے!

      اگرچہ، ایسے خاوند ہیں جو اس عمدہ نمونے کی پیروی نہیں کر تے۔ وہ اپنی خداداد سرداری کو اپنی بیویوں کی بھلائی کی بجائے، خودغرضانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں پر جابر حاکموں کی طرح سے حکومت کرتے ہوئے مکمل تابعداری کا تقاضا کرتے اور اکثر انہیں اپنے لئے کوئی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں د یتے۔ قابل‌فہم طور پر، ایسے خاوندوں کی بیویاں اکثر ناخوش زندگی بسر کرتی ہیں۔ اور اسطرح سے ایسا خاوند بھی تکلیف اٹھاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیوی کے پرمحبت احترام کو حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

      سچ ہے کہ خدا تقاضا کرتا ہے کہ ایک بیوی اپنے شوہر کے مرتبے کا احترام کرے جو وہ خاندان کے سر کے طور پر رکھتا ہے۔ لیکن اگر شوہر ایک شخص کے طور پر اپنے لئے اسکے دلی احترام سے لطف اٹھانا چاہتا ہے تو اسکو اسے حاصل کرنا چاہیے، اور ایسا کرنے کا بہترین طریقہ ذمہ‌دارانہ طریقے سے کام کرنا اور گھرانے کے سردار کے طور پر عمدہ، خدائی صفات پیدا کرنا ہے۔

      تابعداری نسبتی ہے

      ایک شوہر کا اپنی بیوی پر اختیار ہمہ‌گیر نہیں ہے۔ بعض طریقوں سے ایک بیوی کی تابعداری کا موازنہ ایک دنیاوی حاکم کیلئے مسیحیوں کی تابعداری کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ خدا حکم دیتا ہے کہ ایک مسیحی کو ”‏اعلی حکومتوں کے تابع رہنا“‏ چاہیے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱)‏ تاہم جوکچھ ہمیں خدا کو ادا کرنا ہے اسکے ساتھ اس تابعداری کا ہمیشہ توازن رہنا چاہیے۔ یسوع نے کہا:‏ ”‏جو قیصر ہے قیصر کو ادا کرو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“‏ (‏مرقس ۱۲:‏۱۷)‏ اگر قیصر (‏دنیاوی حکومت)‏ اس چیز کا تقاضا کرتی ہے جو خدا کی ہے تو جو کچھ پطرس رسول نے کہا تھا وہ ہمیں یاد ہے:‏ ”‏ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏ اعمال ۵:‏۲۹۔

  • شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟
    مینارِنگہبانی—1992ء | 1 ستمبر
    • ایک شوہر اپنی بیوی کی محبت اور احترام کو حاصل کریگا جب وہ اپنے سر، یسوع مسیح کی خدائی صفات کو ظاہر کرتا ہے، جس نے اپنے شاگردوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم دیا تھا۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴)‏ اگرچہ ایک شوہر خطاپذیر اور ناکامل ہے، اگر وہ مسیح کی اعلی سرداری کی مطابقت میں اپنے اختیار کو چلاتا ہے تو وہ اسے اپنی بیوی کے لئے آسان‌تر بناتا ہے تاکہ اسے اپنے سر کے طور پر مانتے ہوئے خوش ہو۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳)‏ اگر ایک بیوی پرمحبت مہربانی اور انکساری کی مسیحی صفات پیدا کرتی ہے تو اس کے لئے خود کو اپنے شوہر کے تابع کرنا مشکل نہیں ہے۔

  • شادی میں تابعداری کا کیا مطلب ہے؟
    مینارِنگہبانی—1992ء | 1 ستمبر
    • ایسے رحجانات کو کلیسیا میں پیدا کیا جانا چاہیے۔ اور انہیں مسیحی گھرانے کے اندر شوہر اور بیوی کے درمیان خاص طور پر پیدا کیا جانا چاہیے۔ ایک شوہر اپنی بیوی سے مشوروں کو سننے سے اپنی پرمحبت چاہت اور نرمی ظاہر کر سکتا ہے۔ اسے خاندان کو متاثر کرنے والا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی بیوی کے نقطہءنظر پر غور کرنا چاہیے۔ مسیحی بیویاں خالی‌الذہن نہیں ہیں۔ وہ اکثر اپنے شوہروں کو قابل‌قدر تجاویز پیش کر سکتی ہیں، جیسے سارہ نے اپنے شوہر، ابرہام کو پیش کی تھی۔ (‏پیدایش ۲۱:‏۱۲)‏ اس کی دوسری طرف، ایک مسیحی بیوی غیرمعقول طورپر اپنے شوہر سے مطالبہ کرنے والی نہیں ہوگی۔ وہ اسکے فیصلوں کی حمایت کرنے اور اسکی پیشوائی کی پیروی کرنے سے اپنی مہربانی اور مزاج کی غربت ظاہر کریگی، اگرچہ بعض‌اوقات وہ اسکی اپنی ترجیحات سے بھی فرق ہو سکتے ہیں۔

      ایک معقول شوہر، ایک معقول بزرگ کی طرح، مہربان اور قابلرسائی ہوتا ہے۔ ایک پرمحبت بیوی ہمدرد اور متحمل، اور اسکی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے جواب دیتی ہے جو وہ زندگی کے دباؤ اور ناکاملیت کے باوجود اپنی ذمہ‌داریوں کو پورا کرنے کیلئے کرتا ہے۔ جب شوہر اور بیوی دونوں کی طرف سے ایسے رحجانات پیدا کئے جاتے ہیں تو شادی میں تابعداری کوئی مسئلہ نہیں بنیگی۔ بلکہ، یہ خوشی، سلامتی، اور دائمی قناعت کا سرچشمہ ہے۔ (‏۹۱⁦w⁩ ۱۲/۱۵ ۱۹)‏

اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
لاگ آؤٹ
لاگ اِن
  • اُردو
  • شیئر کریں
  • ترجیحات
  • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
  • اِستعمال کی شرائط
  • رازداری کی پالیسی
  • رازداری کی سیٹنگز
  • JW.ORG
  • لاگ اِن
شیئر کریں