یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ع‌ان باب 118
  • غداری اور گرفتاری

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • غداری اور گرفتاری
  • عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع مسیح کی گِرفتاری
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • گتسمنی باغ میں
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • یسوع کی گِرفتاری
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • مالک کی یادگاری تقریب
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
مزید
عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
ع‌ان باب 118

۱۱۸

غداری اور گرفتاری

جب یہوداہ سپاہیوں، سردار کاہنوں، فریسیوں اور دوسرے لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ کیساتھ گتسمنی باغ میں پہنچتا ہے تو آدھی سے زیادہ رات گزر چکی ہے۔ کاہنوں نے یسوع کو پکڑوانے کے عوض یہوداہ کو چاندی کے ۳۰ سکے دینے کا اقرار کِیا ہے۔

پہلے، جب یہوداہ کو فسح کے کھانے سے باہر بھیج دیا گیا تھا تو بدیہی طور پر وہ سیدھا سردار کاہنوں کے پاس گیا تھا۔ اُنہوں نے فوری طور پر اپنے اہلکاروں اور سپاہیوں کے ایک دستے کو جمع کر لیا۔ یہوداہ شاید پہلے اُنہیں اُس جگہ لے گیا تھا جہاں یسوع اور اُسکے رسولوں نے فسح منائی تھی۔ یہ معلوم ہونے پر کہ وہ جا چکے ہیں بِھیڑ ہتھیار اور مشعلیں اور چراغ اُٹھائے یہوداہ کے پیچھے یروشلیم سے باہر نکل آتی ہے اور قدرون کی وادی کے دوسری طرف جاتی ہے۔

یہوداہ مجمع کے آگے آگے کوہِ‌زیتون پر چڑھتے ہوئے پُراعتماد ہے کہ یسوع کہاں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران، یسوع اور رسول بیت‌عنیاہ اور یروشلیم کے درمیان آتے جاتے اکثر گتسمنی باغ میں آرام اور بات‌چیت کیلئے قیام کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اَب جبکہ یسوع غالباً تاریکی میں زیتون کے درختوں کے جھنڈ میں چھپا ہوگا تو سپاہی اُسے کیسے پہچانیں گے؟ شاید اُنہوں نے اُسے پہلے کبھی نہیں دیکھا؟ لہٰذا، یہوداہ یہ کہتے ہوئے ایک نشان دیتا ہے:‏ ”‏جسکا مَیں بوسہ لوں وہی ہے۔ اُسے پکڑ لینا۔“‏

یہوداہ بِھیڑ کیساتھ باغ میں پہنچ جاتا ہے اور یسوع کو اپنے رسولوں کیساتھ دیکھکر سیدھا اُسکے پاس جاتا ہے۔ وہ اُسے ”‏اَے ربی سلام!‏“‏ کہہ کر اُسکا بوسہ لیتا ہے۔

”‏میاں!‏ تُو کس کام کیلئے یہاں آیا ہے؟“‏ [‏این‌ڈبلیو]‏ یسوع جواباً کہتا ہے۔ اِسکے بعد اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے، وہ کہتا ہے:‏ ”‏اَے یہوؔداہ کیا تُو بوسہ لیکر ابنِ‌آدم کو پکڑواتا ہے؟“‏ مگر آئیے اب اُسکے پکڑوانے والے کا قصہ چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں!‏ یسوع جلتی مشعلوں اور چراغوں کی روشنی میں آگے بڑھ کر پوچھتا ہے:‏ ”‏کسے ڈھونڈتے ہو؟“‏

”‏یسوؔع ناصری کو،“‏ وہ جواب دیتے ہیں۔

سب کے سامنے کھڑے ہو کر یسوع جرأتمندی سے جواب دیتا ہے کہ ”‏مَیں ہی ہوں۔“‏ اُس کی دلیری سے حیران ہو کر اور یہ نہ جانتے ہوئے کہ آگے کیا ہوگا وہ آدمی پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑتے ہیں۔

”‏مَیں تُم سے کہہ چکا ہوں کہ مَیں ہی ہوں،“‏ یسوع اطمینان سے جواب دیتا ہے۔ ”‏پس اگر مجھے ڈھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔“‏ تھوڑی دیر پہلے بالاخانے میں، یسوع دُعا میں اپنے باپ پر واضح کر چکا تھا کہ اُس نے اپنے وفادار رسولوں کو حفاظت سے رکھا ہے اور ”‏ہلاکت کے فرزند کے سوا“‏ اُن میں سے کسی کو بھی نہیں کھویا۔ پس وہ اِن الفاظ کی تکمیل کیلئے کہتا ہے کہ اُسکے پیروکاروں کو جانے دیا جائے۔

جب سپاہیوں کے اوسان بحال ہوتے ہیں تو وہ کھڑے ہو کر یسوع کو باندھنے لگتے ہیں تب رسولوں کو سمجھ آتی ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ لہٰذا وہ پوچھتے ہیں:‏ ”‏اَے خداوند کیا ہم تلوار چلائیں؟“‏ یسوع کے جواب دینے سے پہلے ہی پطرس اُن دو تلواروں میں سے ایک لیکر جو رسول اپنے ساتھ لائے ہیں سردار کاہن کے نوکر، ملخُس پر چلا دیتا ہے۔ پطرس کا وار خطا ہو جاتا ہے البتہ اُس نوکر کا دہنا کان اڑ جاتا ہے۔

”‏اتنے پر کفایت کرو،“‏ یسوع مداخلت کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ملخُس کے کان کو چھو کر وہ اُسے اچھا کر دیتا ہے۔ اِسکے بعد پطرس کو حکم دیتے ہوئے وہ ایک اہم سبق سکھاتا ہے:‏ ”‏اپنی تلوار کو میان میں کر لے کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔ کیا تُو نہیں سمجھتا کہ مَیں اپنے باپ سے منت کر سکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کر دیگا؟“‏

یسوع گرفتار ہونے کیلئے تیار ہے، جیسے‌کہ وہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏مگر وہ نوشتے کہ یونہی ہونا ضرور ہے کیونکر پورے ہونگے؟“‏ لہٰذا وہ کہتا ہے:‏ ”‏جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیا مَیں اُسے نہ پیوں؟“‏ وہ اپنے لئے خدا کی مرضی سے پوری طرح متفق ہے!‏

اِس کے بعد یسوع بِھیڑ سے مخاطب ہوتا ہے۔ ”‏کیا تُم تلواریں اور لاٹھیاں لیکر مجھے ڈاکو کی طرح پکڑنے نکلے ہو؟“‏ وہ پوچھتا ہے۔ ”‏مَیں ہر روز ہیکل میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا اور تُم نے مجھے نہیں پکڑا۔ مگر یہ سب کچھ اسلئے ہؤا ہے کہ نبیوں کے نوشتے پورے ہوں۔“‏

اِس پر سپاہیوں کے دستے اور فوجی سالار اور یہودی پیادے یسوع کو پکڑ کر باندھ لیتے ہیں۔ یہ دیکھکر رسول اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تاہم، ایک جوان—‏غالباً مرقس شاگرد—‏بِھیڑ کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ وہ شاید اُس گھر میں تھا جہاں یسوع نے فسح منائی تھی اور بعدازاں وہاں سے بِھیڑ کے پیچھے پیچھے چلا آیا ہے۔ تاہم، اب اُسے پہچان لیا جاتا ہے اور اُسے پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر وہ اپنی مہین چادر چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ متی ۲۶:‏۴۷-‏۵۶؛ مرقس ۱۴:‏۴۳-‏۵۲؛ لوقا ۲۲:‏۴۷-‏۵۳؛ یوحنا ۱۷:‏۱۲؛ ۱۸:‏۳-‏۱۲۔

▪ یہوداہ کو کیوں یقین ہے کہ یسوع گتسمنی باغ میں ہی ہوگا؟

▪ یسوع اپنے رسولوں کیلئے فکرمندی کا اظہار کیسے کرتا ہے؟

▪ پطرس یسوع کے دفاع میں کیا کارروائی کرتا ہے، تاہم یسوع پطرس سے کیا کہتا ہے؟

▪ یسوع کیسے ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی بابت خدا کی مرضی سے بالکل متفق ہے؟

▪ جب رسول یسوع کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو کون پیچھے رہ جاتا ہے، تاہم اُسکے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں