یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ع‌ان باب 117
  • باغ کے اندر کرب میں مبتلا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • باغ کے اندر کرب میں مبتلا
  • عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
  • ملتا جلتا مواد
  • گتسمنی میں یسوع مسیح کی دُعا
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • یسوع کی انسانی زندگی کا آخری دن
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • رسولوں کو اپنی موت کیلئے تیار کرنا
    عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
  • ”‏وہ وقت آ گیا!‏“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
ع‌ان باب 117

۱۱۷

باغ کے اندر کرب میں مبتلا

جب یسوع دُعا ختم کرتا ہے تو وہ اور اُسکے ۱۱ وفادار رسول یہوواہ کی حمد کے گیت گاتے ہیں۔ اِسکے بعد وہ بالاخانہ سے، ٹھنڈی تاریک رات میں باہر نکل آتے ہیں اور قدرون کی وادی سے ہوتے ہوئے واپس بیت‌عنیاہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ لیکن راستے میں، وہ اپنی پسندیدہ جگہ، گتسمنی باغ میں رُکتے ہیں۔ یہ کوہِ‌زیتون پر یا اُسکے گردونواح میں واقع ہے۔ یسوع اکثر یہاں زیتون کے درختوں کے بیچ اپنے رسولوں کیساتھ وقت گزار چکا ہے۔

رسولوں میں سے آٹھ کو—‏شاید باغ کے دروازے پر—‏چھوڑتے ہوئے وہ اُنہیں ہدایت کرتا ہے:‏ ”‏یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ مَیں وہاں جا کر دُعا کروں۔“‏ اِسکے بعد باقی تین—‏پطرس، یعقوب اور یوحنا—‏کو اپنے ساتھ لیکر باغ کے اندر چلا جاتا ہے۔ یسوع غمگین اور نہایت بے‌چین ہے۔ ”‏میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے،“‏ وہ اُنہیں بتاتا ہے۔ ”‏تُم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔“‏

تھوڑا آگے بڑھکر، یسوع مُنہ کے بل زمین پر گر کر سنجیدگی سے دُعا کرنے لگتا ہے:‏ ”‏اَے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔ تَو بھی نہ جیسا مَیں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تُو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔“‏ اُسکا کیا مطلب ہے؟ وہ ”‏نہایت غمگین .‏ .‏ .‏ یہاں تک کہ مرنے کی نوبت“‏ کیوں محسوس کرتا ہے؟ کیا وہ مرنے اور فدیہ فراہم کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟

ہرگز نہیں!‏ یسوع موت سے بچنے کیلئے التجا نہیں کر رہا۔ قربانی کی موت سے بچنے کا تو خیال بھی، جیسے‌کہ ایک مرتبہ پطرس نے پیش کِیا تھا، اُس کیلئے نفرت‌انگیز ہے۔ اِسکے برعکس، وہ اِس ڈر کے باعث شدید کرب میں مبتلا ہے کہ جلد ہی ایک قابلِ‌نفرت مُجرم کے طور پر اُسکی موت واقع ہوگی جس سے اُسکے باپ کے نام کی بدنامی ہوگی۔ اَب اُسے احساس ہو رہا ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں اُسے نہایت بُرے—‏خدا کے خلاف کفر بکنے والے—‏شخص کے طور پر سولی پر چڑھا دیا جائیگا!‏ یہی بات اُسکی بے‌چینی کا سبب ہے۔

کافی دیر تک دُعا کرنے کے بعد، یسوع واپس آتا ہے اور تینوں رسولوں کو سوتے ہوئے پاتا ہے۔ پطرس سے مخاطب ہوکر وہ کہتا ہے:‏ ”‏کیا تُم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے؟ جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“‏ تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ بہت دباؤ میں رہے ہیں اور رات کافی گزر گئی ہے، وہ کہتا ہے:‏ ”‏رُوح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔“‏

اِسکے بعد یسوع پھر دوسری مرتبہ چلا جاتا ہے اور خدا سے ”‏یہ پیالہ“‏ یعنی اُس کیلئے یہوواہ کی مخصوص مرضی ہٹا لینے کی درخواست کرتا ہے۔ جب وہ واپس آتا ہے تو تینوں کو پھر سوتے پاتا ہے جبکہ اُنہیں آزمائش سے بچنے کیلئے دُعا میں مشغول ہونا چاہئے تھا۔ جب یسوع اُن سے ہمکلام ہوتا ہے تو اُنہیں سمجھ نہیں آتی کہ جواب میں کیا کہیں۔

بالآخر، یسوع تیسری مرتبہ جاتا ہے، وہ پتھر کا ٹپہ آگے بڑھ کر گھٹنے ٹیک کر رو رو کر بلند آواز سے دُعا کرتا ہے:‏ ”‏اَے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔“‏ یسوع اُس بدنامی کی وجہ سے شدید ذہنی کرب محسوس کرتا ہے جو ایک مجرم کے طور پر اُسکی موت اُسکے باپ کے نام پر لائیگی۔ کفر بکنے یعنی خدا کی توہین کرنے کا الزام ہی اُس کیلئے ناقابلِ‌برداشت ہے!‏

لہٰذا، یسوع دُعا کرنا جاری رکھتا ہے:‏ ”‏تَو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔“‏ یسوع فرمانبرداری کیساتھ خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر فوقیت دیتا ہے۔ اس پر آسمان سے ایک فرشتہ اُس پر ظاہر ہوتا ہے اور کچھ حوصلہ‌افزا باتوں سے اُسے تقویت دیتا ہے۔ غالباً، فرشتہ یسوع کو بتاتا ہے کہ اُسکا باپ اُس سے خوش ہے۔

تاہم، اُسکی اپنی اور تمام نسلِ‌انسانی کی ابدی زندگی کا بھاری بوجھ یسوع کے کندھوں پر ہے!‏ جذباتی دباؤ بہت زیادہ ہے۔ لہٰذا یسوع اَور بھی دلسوزی سے دُعا کرنا جاری رکھتا ہے اور اُسکا پسینہ گویا خون کی بوندیں بن بن کر زمین پر ٹپکتا ہے۔ ”‏اگرچہ ایسا عجیب‌وغریب واقعہ شاذونادر ہی رونما ہوتا ہے،“‏ دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی‌ایشن بیان کرتا ہے، ”‏تاہم خون‌ملا پسینہ .‏ .‏ .‏ شدید جذباتی حالتوں میں نکل سکتا ہے۔“‏

اِس کے بعد، یسوع تیسری مرتبہ اپنے رسولوں کے پاس آتا ہے اور ایک بار پھر اُنہیں سوتے ہوئے پاتا ہے۔ وہ شدید غم سے نڈھال ہیں۔ ”‏تُم ایسے وقت پر سوتے اور آرام کرتے ہو!‏“‏ [‏این‌ڈبلیو]‏ وہ بے‌ساختہ بول اُٹھتا ہے۔ ”‏بس وقت آ پہنچا ہے۔ دیکھو ابنِ‌آدم گنہگاروں کے حوالہ کِیا جاتا ہے۔ اُٹھو چلیں۔ دیکھو میرا پکڑوانے والا نزدیک آ پہنچا ہے۔“‏

وہ یہ کہہ ہی رہا ہے کہ یہوداہ مشعلوں، چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ ایک بِھیڑ کے ہمراہ پہنچ جاتا ہے۔ متی ۲۶:‏۳۰، ۳۶-‏۴۷؛ ۱۶:‏۲۱-‏۲۳؛ مرقس ۱۴:‏۲۶، ۳۲-‏۴۳؛ لوقا ۲۲:‏۳۹-‏۴۷؛ یوحنا ۱۸:‏۱-‏۳؛ عبرانیوں ۵:‏۷۔

▪ بالاخانے سے نکلنے کے بعد، یسوع رسولوں کیساتھ کہاں جاتا ہے اور وہ وہاں کیا کرتا ہے؟

▪ جب یسوع دُعا کرتا ہے تو رسول کیا کرتے ہیں؟

▪ یسوع کرب میں کیوں مبتلا ہے اور وہ خدا سے کیا درخواست کرتا ہے؟

▪ یسوع کے پسینے کا خون کی بوندیں بن جانا کیا ظاہر کرتا ہے؟

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں