یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ع‌ان باب 116
  • رسولوں کو اپنی موت کیلئے تیار کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • رسولوں کو اپنی موت کیلئے تیار کرنا
  • عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک قریبی رشتے سے لطف اُٹھانا
  • مزید الوداعی نصیحت
  • بالاخانہ میں اختتامی دُعا
  • یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • پھل لائیں اور یسوع مسیح کے دوست بنیں
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • رسولوں کے ساتھ یسوع مسیح کی آخری دُعا
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
  • ”‏حوصلہ رکھیں، مَیں دُنیا پر غالب آ گیا ہوں“‏
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
مزید
عظیم‌ترین انسان جو کبھی ہو گزرا
ع‌ان باب 116

۱۱۶

رسولوں کو اپنی موت کیلئے تیار کرنا

یادگاری کا کھانا ختم ہو چکا ہے مگر یسوع اور اُسکے رسول ابھی تک بالاخانے میں ہیں۔ اگرچہ یسوع کے جانے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے مگر اُسے بہت کچھ کہنا ہے۔ ”‏تمہارا دل نہ گھبرائے،“‏ وہ اُنہیں تسلی دیتا ہے۔ ”‏تم خدا پر ایمان رکھتے ہو۔“‏ تاہم وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏مجھ پر بھی ایمان رکھو۔“‏

”‏میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں،“‏ یسوع بیان کو جاری رکھتا ہے۔ ”‏مَیں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے جگہ تیار کروں .‏ .‏ .‏ تاکہ جہاں مَیں ہوں تُم بھی ہو۔ اور جہاں مَیں جاتا ہوں تُم وہاں کی راہ جانتے ہو۔“‏ رسول یہ نہیں سمجھتے کہ یسوع آسمان پر جانے کی بابت کہہ رہا ہے لہٰذا توما پوچھتا ہے:‏ ”‏اَے خداوند ہم نہیں جانتے کہ تُو کہاں جاتا ہے۔ پھر راہ کس طرح جانیں؟“‏

”‏راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں،“‏ یسوع جواب دیتا ہے۔ جی‌ہاں، صرف اُسے قبول کرنے اور اُسکی طرزِزندگی کی نقل کرنے سے ہی ایک شخص باپ کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے جیسے‌کہ یسوع بیان کرتا ہے:‏ ”‏کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔“‏

فلپس درخواست کرتا ہے، ”‏اَے خداوند!‏ باپ کو ہمیں دکھا، یہی ہمیں کافی ہے۔“‏ بدیہی طور پر فلپس چاہتا ہے کہ یسوع خدا کی کوئی دیدنی جھلک دکھائے جیسے‌کہ قدیم وقتوں میں موسیٰ، ایلیاہ اور یسعیاہ کو رویتوں میں دکھائی گئی تھی۔ تاہم، رسولوں کے پاس درحقیقت، اُن رویتوں سے کہیں بہتر چیز موجود ہے جیسے‌کہ یسوع بیان کرتا ہے:‏ ”‏اَے فلپسؔ!‏ مَیں اتنی مدت سے تمہارے ساتھ ہوں کیا تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔“‏

یسوع اپنے باپ کی شخصیت کی عکاسی اتنے کامل طریقے سے کرتا ہے کہ اُسکے ساتھ رہنا اور اُسے دیکھنا، حقیقتاً باپ کو دیکھنے کے مترادف ہے۔ تاہم، باپ بیٹے سے افضل ہے، جیسے‌کہ یسوع خود تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏یہ باتیں جو مَیں تُم سے کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا۔“‏ یسوع اپنی تعلیمات کے سلسلے میں تمام عزت اپنے آسمانی باپ کو دیتا ہے۔

رسولوں کیلئے اب یسوع کو یہ کہتے سننا کتنا ہمت‌افزا ہے:‏ ”‏جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کریگا بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کریگا۔“‏ یسوع کا یہ مطلب نہیں کہ اُسکے پیروکار اُس سے زیادہ معجزانہ قوتوں کا مظاہرہ کرینگے۔ اِسکے برعکس، اُسکا مطلب یہ ہے کہ وہ زیادہ دیر تک، زیادہ وسیع علاقے میں اور کہیں زیادہ لوگوں میں خدمتگزاری انجام دینگے۔

یسوع اپنی موت کے بعد اپنے شاگردوں کو ترک نہیں کریگا۔ ”‏جوکچھ تُم میرے نام سے چاہو گے،“‏ وہ وعدہ کرتا ہے، ”‏مَیں وہی کرونگا۔“‏ وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏مَیں باپ سے درخواست کرونگا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی روحِ‌حق۔“‏ بعدازاں، جب وہ آسمان پر چلا جاتا ہے تو یسوع اپنے شاگردوں پر یہ دوسرا مددگار یعنی رُوح‌اُلقدس نازل کرتا ہے۔

یسوع کی موت قریب ہے جیسے‌کہ وہ کہتا ہے:‏ ”‏تھوڑی دیر باقی ہے کہ دُنیا مجھے پھر نہ دیکھے گی۔“‏ یسوع روحانی مخلوق بن جائیگا جسے کوئی انسان نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن یسوع پھر اپنے وفادار رسولوں سے وعدہ کرتا ہے:‏ ”‏مگر تُم مجھے دیکھتے رہو گے۔ چونکہ مَیں جیتا ہوں تُم بھی جیتے رہو گے۔“‏ جی‌ہاں، یسوع نہ صرف اپنی قیامت کے بعد اُن پر انسانی صورت میں ظاہر ہوگا بلکہ وقت آنے پر وہ اُنہیں آسمان میں اپنے ساتھ زندگی کیلئے روحانی خلائق کے طور پر قیامت بھی عطا کریگا۔

یسوع اب ایک سادہ سا اصول بیان کرتا ہے:‏ ”‏جسکے پاس میرے حکم ہیں اور وہ اُن پر عمل کرتا ہے وہی مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ میرے باپ کا پیارا ہوگا اور مَیں اُس سے محبت رکھونگا اور اپنے آپ کو اُس پر ظاہر کرونگا۔“‏

اِس پر یہوداہ رسول، جو تدی بھی کہلاتا ہے، قطع کلامی کرتا ہے:‏ ”‏اَے خداوند!‏ کیا ہؤا کہ تُو اپنے آپ کو ہم پر تو ظاہر کِیا چاہتا ہے مگر دُنیا پر نہیں؟“‏

”‏اگر کوئی مجھ سے محبت رکھے،“‏ یسوع جواب دیتا ہے، ”‏وہ میرے کلام پر عمل کرے گا اور میرا باپ اُس سے محبت رکھے گا .‏ .‏ .‏ جو مجھ سے محبت نہیں رکھتا وہ میرے کلام پر عمل نہیں کرتا۔“‏ اُس کے فرمانبردار پیروکاروں کے برعکس، دُنیا مسیح کی تعلیمات کو نظرانداز کرتی ہے۔ لہٰذا وہ خود کو اُن پر ظاہر نہیں کرتا۔

اپنی زمینی خدمتگزاری کے دوران یسوع اپنے رسولوں کو بہت سی باتوں کی تعلیم دے چکا ہے۔ وہ اُن سب باتوں کو کیسے یاد رکھیں گے، خاص طور پر جبکہ وہ ابھی تک بہت سی باتیں سمجھنے سے قاصر ہیں؟ خوشی کی بات ہے کہ یسوع وعدہ کرتا ہے:‏ ”‏مددگار یعنی رُوح‌اُلقدس جسے باپ میرے نام سے بھیجیگا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جوکچھ مَیں نے تُم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔“‏

ایک بار پھر اُنہیں تسلی دیتے ہوئے یسوع کہتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہیں اطمینان دئے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ .‏ .‏ .‏ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔“‏ واقعی یسوع جدا ہو رہا ہے، تاہم وہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏اگر تُم مجھ سے محبت رکھتے تو اس بات سے کہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔“‏

اُن کیساتھ یسوع کا وقت اب تھوڑا رہ گیا ہے۔ ”‏اِسکے بعد مَیں تُم سے بہت سی باتیں نہ کرونگا،“‏ وہ کہتا ہے، ”‏کیونکہ دُنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اسکا کچھ نہیں۔“‏ شیطان ابلیس، دُنیا کا سردار ہے جس نے یہوداہ میں سما کر اُسے اپنی گرفت میں کر لیا تھا۔ لیکن یسوع میں گناہ کے باعث کوئی کمزوری نہیں جسے شیطان استعمال کرتے ہوئے اُسے خدا کی خدمت سے منحرف کر سکے۔

ایک قریبی رشتے سے لطف اُٹھانا

یادگاری کے کھانے کے بعد، یسوع اپنی غیررسمی بے‌تکلف بات‌چیت سے اپنے رسولوں کی حوصلہ‌افزائی کرتا رہا ہے۔ شاید آدھی رات گزر گئی ہے۔ لہٰذا یسوع تاکید کرتا ہے:‏ ”‏اُٹھو یہاں سے چلیں۔“‏ تاہم، جانے سے پہلے، اُن کیلئے اپنی محبت سے ترغیب پا کر یسوع بات‌چیت کو جاری رکھتا ہے اور ایک تحریک دینے والی تمثیل پیش کرتا ہے۔

”‏انگور کا حقیقی درخت مَیں ہوں اور میرا باپ باغبان ہے،“‏ وہ تمثیل شروع کرتا ہے۔ عظیم باغبان، یہوواہ خدا نے انگور کے اِس علامتی درخت کو اُس وقت لگایا جب اُس نے یسوع کو ۲۹ س.‏ع.‏ کے موسمِ‌خزاں میں اُسکے بپتسمے کے موقع پر رُوح‌اُلقدس سے مسح کِیا تھا۔ تاہم، یسوع یہ کہتے ہوئے اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انگور کا درخت صرف اُسکی نمائندگی ہی نہیں کرتا:‏ ”‏جو ڈالی مجھ میں ہے اور پھل نہیں لاتی اسے وہ کاٹ ڈالتا ہے اور جو پھل لاتی ہے اسے چھانٹتا ہے تاکہ زیادہ پھل لائے۔ .‏ .‏ .‏ جس طرح ڈالی اگر انگور کے درخت میں قائم نہ رہے تو اپنے آپ سے پھل نہیں لا سکتی اُسی طرح تُم بھی اگر مجھ میں قائم نہ رہو تو پھل نہیں لا سکتے۔ مَیں انگور کا درخت ہوں تُم ڈالیاں ہو۔“‏

ٹھیک ۵۱ دن بعد، پنتیکست پر جب اُن پر رُوح‌اُلقدس نازل ہوتی ہے تو رسول اور دیگر لوگ انگور کی بیل کی شاخیں بن جاتے ہیں۔ بالآخر، ۱،۴۴،۰۰۰ اشخاص علامتی انگور کی بیل کی شاخیں بن جاتے ہیں۔ انگور کی بیل کے تنے، یسوع مسیح کیساتھ ملکر یہ انگور کے علامتی درخت کو تشکیل دیتے ہیں جو خدا کی بادشاہت کے پھل پیدا کرتا ہے۔

یسوع پھل پیدا کرنے کی کُنجی کی وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏جو مجھ میں قائم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وہی بہت پھل لاتا ہے کیونکہ مجھ سے جدا ہو کر تُم کچھ نہیں کر سکتے۔“‏ تاہم، یسوع بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص پھل پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ”‏وہ ڈالی کی طرح پھینک دیا جاتا اور سوکھ جاتا ہے اور لوگ انہیں جمع کر کے آگ میں جھونک دیتے ہیں اور وہ جل جاتی ہیں۔“‏ اِسکے برعکس، یسوع وعدہ کرتا ہے:‏ ”‏اگر تم مجھ میں قائم رہو اور میری باتیں تُم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو۔ وہ تمہارے لئے ہو جائیگا۔“‏

یسوع اپنے رسولوں سے مزید کہتا ہے:‏ ”‏میرے باپ کا جلال اسی سے ہوتا ہے کہ تم بہت سا پھل لاؤ۔ جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔“‏ خدا شاخوں سے جس پھل کی توقع کرتا ہے وہ مسیح جیسی صفات، بالخصوص محبت کو ظاہر کرنا ہے۔ علاوہ‌ازیں، مسیح چونکہ خدا کی بادشاہت کا مناد تھا اسلئے متوقع پھل میں اُسکی طرح شاگرد بنانے میں سرگرم ہونا بھی شامل ہے۔

یسوع اب تاکید کرتا ہے:‏ ”‏تم میری محبت میں قائم رہو۔“‏ تاہم، اُسکے رسول یہ کام کیسے کر سکتے ہیں؟ ”‏اگر تُم میرے حکموں پر عمل کرو گے،“‏ وہ بیان کرتا ہے، ”‏تو میری محبت میں قائم رہو گے۔“‏ یسوع بیان کو جاری رکھتے ہوئے وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏میرا حکم یہ ہے کہ جیسے مَیں نے تُم سے محبت رکھی تُم بھی ایکدوسرے سے محبت رکھو۔ اِس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دیدے۔“‏

چند ہی گھنٹوں میں، یسوع اپنے رسولوں اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو اُس پر ایمان لائینگے اپنی جان دینے سے اِس افضل محبت کا اظہار کریگا۔ اُسکے نمونے سے اُسکے پیروکاروں کو ایک دوسرے کیلئے ایسی ہی خودایثارانہ محبت رکھنے کی ترغیب ملنی چاہئے۔ ایسی محبت ہی اُنکی شناخت کرائیگی جیسے‌کہ یسوع نے پہلے بیان کِیا تھا:‏ ”‏اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔“‏

اپنے دوستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یسوع کہتا ہے:‏ ”‏جوکچھ مَیں تمکو حکم دیتا ہوں اگر تم اسے کرو تو میرے دوست ہو۔ اب سے مَیں تمہیں نوکر نہ کہوں گا کیونکہ نوکر نہیں جانتا کہ اُسکا مالک کیا کرتا ہے بلکہ تمہیں مَیں نے دوست کہا ہے۔ اسلئے‌کہ جو باتیں مَیں نے اپنے باپ سے سنیں وہ سب تمکو بتا دیں۔“‏

یسوع کے قریبی دوست ہونا کیا ہی گراں‌بہا رشتہ ہے!‏ لیکن اِس رشتے سے مسلسل لطف‌اندوز ہونے کیلئے، اُسکے پیروکاروں کو ”‏پھل لاتے“‏ رہنا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یسوع بیان کرتا ہے کہ ”‏میرے نام سے جو باپ سے مانگو وہ تمکو دے [‏گا]‏۔“‏ یقیناً، یہ بادشاہتی پھل پیدا کرنے کا شاندار اجر ہے!‏ ایک بار پھر رسولوں کو ”‏ایک دوسرے سے محبت رکھنے“‏ کی تاکید کرنے کے بعد یسوع بیان کرتا ہے کہ دُنیا اُن سے عداوت رکھے گی۔ تاہم، وہ اُنہیں تسلی دیتا ہے:‏ ”‏اگر دُنیا تُم سے عداوت رکھتی ہے تو تُم جانتے ہو کہ اُس نے تُم سے پہلے مجھ سے بھی عداوت رکھی ہے۔“‏ اِسکے بعد یسوع یہ آشکارا کرنے کیلئے کہ دُنیا اُسکے پیروکاروں سے کیوں عداوت رکھتی ہے، کہتا ہے:‏ ”‏چونکہ تُم دُنیا کے نہیں بلکہ مَیں نے تمکو دُنیا میں سے چن لیا ہے اس واسطے دُنیا تُم سے عداوت رکھتی ہے۔“‏

دُنیا کی طرف سے عداوت کی وجہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یسوع بیان کرتا ہے:‏ ”‏لیکن یہ سب کچھ وہ میرے نام کے سبب سے تمہارے ساتھ کرینگے کیونکہ وہ میرے بھیجنے والے [‏یہوواہ خدا]‏ کو نہیں جانتے۔“‏ درحقیقت، یسوع کے معجزانہ کام اُس سے عداوت رکھنے والوں کو مُجرم ثابت کرتے ہیں جیسے‌کہ وہ خود بیان کرتا ہے:‏ ”‏اگر مَیں اُن میں وہ کام نہ کرتا جو کسی دوسرے نے نہیں کئے تو وہ گنہگار نہ ٹھہرتے مگر اب تو اُنہوں نے مجھے اور میرے باپ دونوں کو دیکھا اور دونوں سے عداوت رکھی۔“‏ پس یسوع کے بیان کے مطابق یہ نوشتہ پورا ہوتا ہے:‏ ”‏اُنہوں نے مجھ سے مُفت عداوت رکھی۔“‏

یسوع پہلے کی طرح پھر اُن سے مددگار یعنی رُوح‌اُلقدس، خدا کی پُرزور سرگرم قوت کے بھیجنے کا وعدے کرتے ہوئے اُنہیں تسلی دیتا ہے۔ ”‏وہ میری گواہی دیگا۔ اور تُم بھی گواہ ہو۔“‏

مزید الوداعی نصیحت

یسوع اور رسول بالاخانے سے نکلنے کیلئے تیار ہیں۔ ”‏مَیں نے یہ باتیں تُم سے اسلئے کہیں کہ تُم ٹھوکر نہ کھاؤ،“‏ وہ بات‌چیت کو جاری رکھتا ہے۔ اِسکے بعد وہ پریشان‌کُن آگاہی دیتا ہے:‏ ”‏لوگ تمکو عبادتخانوں سے خارج کر دینگے بلکہ وہ وقت آتا ہے کہ جو کوئی تمکو قتل کریگا وہ گمان کریگا کہ مَیں خدا کی خدمت کرتا ہوں۔“‏

رسول بدیہی طور پر اِس آگاہی سے بہت پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ یسوع اُنہیں پہلے بتا چکا ہے کہ دُنیا اُن سے عداوت رکھے گی تو بھی اُس نے براہِ‌راست یہ آشکارا نہیں کِیا تھا کہ اُنہیں قتل بھی کِیا جائیگا۔ ”‏مَیں نے شروع ہی سے تُم سے یہ باتیں اسلئے نہ کہیں،“‏ یسوع وضاحت کرتا ہے، ”‏کہ مَیں تمہارے ساتھ تھا۔“‏ تاہم، اُنہیں اپنے جانے سے پہلے اِن باتوں سے مطلع کر دینا کتنا اچھا ہے!‏

”‏مگر اَب،“‏ یسوع بیان کو جاری رکھتا ہے، ”‏مَیں اپنے بھیجنے والے کے پاس جاتا ہوں اور تُم میں سے کوئی مجھ سے نہیں پوچھتا کہ تُو کہاں جاتا ہے؟“‏ شام کے وقت پہلے اُنہوں نے پوچھا تھا کہ وہ کہاں جاتا ہے، لیکن اَب وہ اُسکی بتائی ہوئی باتوں سے اتنے گھبرا گئے ہیں کہ وہ اِسکی بابت مزید کچھ نہیں پوچھتے۔ چنانچہ یسوع بیان کرتا ہے:‏ ”‏اسلئے‌کہ مَیں نے یہ باتیں تم سے کہیں تمہارا دل غم سے بھر گیا۔“‏ رسول اِسلئے غمزدہ نہیں ہیں کہ اُنہیں معلوم ہو گیا ہے کہ وہ سخت اذیت اُٹھائینگے اور قتل کئے جائینگے بلکہ اِسلئے کہ اُنکا اُستاد اُنہیں چھوڑ کر جا رہا ہے۔

پس یسوع وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏میرا جانا تمہارے لئے فائدہ‌مند ہے کیونکہ اگر مَیں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئیگا لیکن اگر جاؤنگا تو اُسے تمہارے پاس بھیج دونگا۔“‏ انسان کے طور پر، یسوع ایک وقت میں ایک ہی جگہ پر رہ سکتا ہے لیکن جب وہ آسمان پر ہے تو وہ مددگار یعنی خدا کی رُوح‌اُلقدس کو اپنے پیروکاروں کے پاس جہاں کہیں بھی وہ زمین پر ہوں بھیج سکتا ہے۔ لہٰذا یسوع کا جانا فائدہ‌مند ہوگا۔

یسوع بیان کرتا ہے کہ رُوح‌اُلقدس ”‏آ کر دُنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصوروار ٹھہرائیگا۔“‏ دُنیا کے گناہ یعنی خدا کے بیٹے پر ایمان لانے میں ناکامی کو ظاہر کِیا جائیگا۔ علاوہ‌ازیں، یسوع کی راستبازی کا واضح ثبوت اُسکے باپ کے پاس آسمان پر جانے سے پیش کِیا جائیگا۔ لہٰذا یسوع کی راستی کو توڑنے میں شیطان اور اُسکی شریر دُنیا کی ناکامی بھی اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دُنیا کے سردار کو مُجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

”‏مجھے تُم سے اَور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے،“‏ یسوع بیان کو جاری رکھتا ہے، ”‏مگر اب تُم اُنکی برداشت نہیں کر سکتے۔“‏ پس یسوع وعدہ کرتا ہے کہ جب وہ رُوح‌اُلقدس، خدا کی سرگرم قوت نازل کریگا تو وہ اِن باتوں کو سمجھنے کیلئے اُنکی قابلیت کے مطابق اُنکی راہنمائی کریگی۔

رسول بالخصوص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یسوع مر جائیگا اور قیامت پانے کے بعد ایک بار پھر اُن پر ظاہر ہوگا۔ پس وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں:‏ ”‏یہ کیا ہے جو وہ ہم سے کہتا ہے کہ تھوڑی دیر میں تُم مجھے نہ دیکھو گے اور پھر تھوڑی دیر میں مجھے دیکھ لوگے اور یہ کہ اسلئے‌کہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں؟“‏

یسوع سمجھ جاتا ہے کہ وہ اُس سے سوال پوچھنا چاہتے ہیں، لہٰذا وہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ تم روؤ گے اور ماتم کرو گے مگر دُنیا خوش ہوگی۔ تُم غمگین تو ہو گے لیکن تمہارا غم ہی خوشی بن جائیگا۔“‏ بعدازاں اُسی دن، سہ‌پہر کے وقت جب یسوع کو سولی دیا جاتا ہے تو دُنیا کے مذہبی پیشوا خوشی مناتے ہیں مگر شاگرد غمزدہ ہوتے ہیں۔ تاہم، جب یسوع قیامت پاتا ہے تو اُنکا غم خوشی میں بدل جاتا ہے!‏ نیز جب وہ پنتیکست پر اپنے گواہ ہونے کیلئے اُن پر خدا کی رُوح‌اُلقدس نازل کرتا ہے تو اُنکی خوشی قائم رہتی ہے۔

رسولوں کی حالت کا دردِزِہ میں مبتلا عورت کی حالت سے موازنہ کرتے ہوئے یسوع کہتا ہے:‏ ”‏جب عورت جننے لگتی ہے تو غمگین ہوتی ہے اسلئے‌کہ اُسکے دُکھ کی گھڑی آ پہنچی۔“‏ تاہم، یسوع بیان کرتا ہے کہ اپنے بچے کی پیدائش کے بعد وہ اپنے درد کو بھول جاتی ہے، اسی طرح وہ اپنے رسولوں کی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے:‏ ”‏پس تمہیں بھی اب تو غم ہے مگر مَیں [‏قیامت پانے کے بعد]‏ تُم سے پھر ملونگا اور تمہارا دل خوش ہوگا اور تمہاری خوشی کوئی تُم سے چھین نہ لیگا۔“‏

اَب تک رسولوں نے یسوع کے نام سے کبھی کوئی درخواست نہیں کی۔ لیکن اَب وہ کہتا ہے:‏ ”‏اگر باپ سے کچھ مانگو گے تو وہ میرے نام سے تمکو دیگا۔ .‏ .‏ .‏ اسلئے‌کہ باپ تو آپ ہی تمکو عزیز رکھتا ہے کیونکہ تُم نے مجھ کو عزیز رکھا ہے اور ایمان لائے ہو کہ مَیں باپ کی طرف سے نکلا ہوں۔ مَیں باپ میں سے نکلا اور دُنیا میں آیا ہوں۔ پھر دُنیا سے رخصت ہو کر باپ کے پاس جاتا ہوں۔“‏

یسوع کی باتیں رسولوں کیلئے بڑی حوصلہ‌افزا ثابت ہوتی ہیں۔ ”‏اس سبب سے ہم ایمان لاتے ہیں کہ تُو خدا سے نکلا ہے،“‏ وہ کہتے ہیں۔ ”‏کیا تُم اب ایمان لاتے ہو؟“‏ یسوع پوچھتا ہے۔ ”‏دیکھو وہ گھڑی آتی ہے بلکہ آ پہنچی ہے کہ تُم سب پراگندہ ہو کر اپنے اپنے گھر کی راہ لو گے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو گے۔“‏ شاید یہ ناقابلِ‌یقین دکھائی دے، تاہم اُسی رات کے دوران ایسا ہوتا ہے!‏

”‏مَیں نے تُم سے یہ باتیں اسلئے کہیں کہ تُم مجھ میں اطمینان پاؤ۔“‏ یسوع بات کا اختتام کرتا ہے:‏ ”‏دُنیا میں مصیبت اُٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو مَیں دُنیا پر غالب آیا ہوں۔“‏ یسوع شیطان اور اُسکی دُنیا کی طرف سے اُسکی راستی کو توڑنے کی ہر کوشش کے باوجود وفاداری کیساتھ خدا کی مرضی پوری کر کے دُنیا پر غالب آیا۔

بالاخانہ میں اختتامی دُعا

اپنے رسولوں کیلئے گہری محبت سے تحریک پا کر، یسوع اُنہیں اپنی قریب‌الوقوع موت کیلئے تیار کرتا رہا ہے۔ اب، اُنہیں کافی دیر تک نصیحت کرنے اور تسلی دینے کے بعد، وہ اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھا کر اپنے باپ سے التجا کرتا ہے:‏ ”‏اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔ چنانچہ تُو نے اُسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تُو نے اُسے بخشا ہے اُن سب کو وہ ہمیشہ کی زندگی دے۔“‏

ہمیشہ کی زندگی—‏یسوع کیا ہی ہیجان‌خیز موضوع کو متعارف کراتا ہے!‏ ”‏ہر بشر پر اختیار“‏ دئے جانے سے، یسوع موت کا شکار تمام نسلِ‌انسانی کو اپنی فدیے کی قربانی سے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ تاہم، وہ صرف اُنہی کو ”‏ہمیشہ کی زندگی“‏ عطا کرتا ہے جنہیں باپ پسند فرماتا ہے۔ ہمیشہ کی زندگی کے اِس موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے یسوع اپنی دُعا جاری رکھتا ہے:‏

”‏اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ جی‌ہاں، ہماری نجات کا انحصار خدا اور اُسکے بیٹے دونوں کا علم حاصل کرنے پر ہے۔ تاہم سطحی علم سے زیادہ کچھ درکار ہے۔

ایک شخص کو اُن کیساتھ باہمی دوستی پیدا کر کے اُنہیں قریب سے جاننا چاہئے۔ ایک شخص کو اُنکی نظر سے معاملات کو دیکھنا چاہئے۔ نیز سب سے بڑھکر، ایک شخص کو دوسروں کیساتھ برتاؤ میں اُنکی لاثانی صفات کی نقل کرنی چاہئے۔

اِسکے بعد یسوع دُعا کرتا ہے:‏ ”‏جو کام تُو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اُسکو تمام کر کے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کِیا۔“‏ اپنے کام کو اِس حد تک مکمل کرنے کے بعد اور اپنی آئندہ کامیابی کی بابت پُراعتماد ہوتے ہوئے، وہ التجا کرتا ہے:‏ ”‏اَے باپ!‏ تُو اُس جلال سے جو مَیں دُنیا کی پیدایش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا مجھے اپنے ساتھ جلالی بنا دے۔“‏ جی‌ہاں، وہ اَب قیامت کے ذریعے اپنے پہلے آسمانی جلال کے بحال کئے جانے کیلئے درخواست کرتا ہے۔

زمین پر اپنے سب سے اہم کام کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے یسوع کہتا ہے:‏ ”‏مَیں نے تیرے نام کو اُن آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تُو نے دُنیا میں سے مجھے دیا۔ وہ تیرے تھے اور تُو نے انہیں مجھے دیا اور اُنہوں نے تیرے کلام پر عمل کِیا ہے۔“‏ یسوع نے اپنی خدمتگزاری میں خدا کے نام، یہوواہ کو استعمال کِیا اور اِسکے صحیح تلفظ کی وضاحت کی لیکن اُس نے اپنے رسولوں پر خدا کے نام کو ظاہر کرنے سے زیادہ کچھ کِیا۔ اُس نے یہوواہ، اُسکی شخصیت اور اُسکے مقاصد کی بابت اُنکے علم اور سمجھ کو وسیع کِیا۔

یہوواہ کو خود سے افضل سمجھتے ہوئے، جسکے تحت وہ خدمت کرتا ہے، یسوع عاجزی کیساتھ تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏جو کلام تُو نے مجھے پہنچایا وہ مَیں نے اُنکو پہنچا دیا اور اُنہوں نے اُسکو قبول کِیا ہے اور سچ جان لیا کہ مَیں تیری طرف سے نکلا ہوں اور وہ ایمان لائے کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔“‏

اپنے پیروکاروں اور باقی نوعِ‌انسان کے درمیان فرق کرتے ہوئے یسوع دُعا میں مزید کہتا ہے:‏ ”‏مَیں دُنیا کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ انکے لئے جنہیں تُو نے مجھے دیا ہے۔ .‏ .‏ .‏ جب تک مَیں اُنکے ساتھ رہا مَیں نے تیرے نام کے اُس وسیلہ سے جو تُو نے مجھے بخشا ہے اُنکی حفاظت کی۔ مَیں نے اُنکی نگہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند“‏ یعنی یہوداہ اسکریوتی، ”‏کے سوا اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہؤا۔“‏ عین اِس وقت یہوداہ، یسوع کو پکڑوانے کے گھٹیا کام کیلئے نکلا ہوا ہے۔ لہٰذا نادانستہ طور پر، یہوداہ صحائف کی تکمیل کر رہا ہے۔

”‏دُنیا نے اُن سے عداوت رکھی،“‏ یسوع دُعا جاری رکھتا ہے۔ ”‏مَیں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تُو انہیں دُنیا سے اُٹھا لے بلکہ یہ کہ اُس شریر سے انکی حفاظت کر۔ جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔“‏ یسوع کے پیروکار دُنیا یعنی شیطان کے زیرِاثر منظم انسانی معاشرے میں رہنے کے باوجود اِس سے اور اِسکی بدکاری سے الگ ہیں اور اُنہیں ہمیشہ الگ ہی رہنا چاہئے۔

”‏اُنہیں سچائی کے وسیلہ سے مُقدس کر،“‏ یسوع بیان جاری رکھتا ہے، ”‏تیرا کلام سچائی ہے۔“‏ یہاں یسوع الہامی عبرانی صحائف کا ذکر کرتا ہے، جن سے اُس نے ہمیشہ ”‏سچائی“‏ کا حوالہ دیا۔ لیکن جوکچھ اُس نے اپنے شاگردوں کو سکھایا اور بعدازاں، جوکچھ اُنہوں نے زیرِالہام مسیحی یونانی صحائف کے طور پر قلمبند کِیا، وہ بھی ”‏سچائی“‏ ہے۔ یہ سچائی کسی شخص کو مُقدس کر سکتی ہے یعنی اُسکی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر اُسے دُنیا سے الگ شخص بنا دیتی ہے۔

چنانچہ یسوع ”‏صرف ان ہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لئے بھی جو انکے کلام کے وسیلہ سے [‏اُس]‏ پر ایمان لائینگے۔“‏ پس یسوع ممسوح پیروکاروں اور مستقبل کے دیگر شاگردوں کیلئے دُعا کرتا ہے جنہیں ”‏ایک ہی گلہ“‏ میں جمع کِیا جائیگا۔ وہ اِن سب کیلئے کیا درخواست کرتا ہے؟

”‏وہ سب ایک ہوں یعنی جس طرح اَے باپ!‏ تُو مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں۔ .‏ .‏ .‏ تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔“‏ یسوع اور اُسکا باپ حقیقی معنوں میں ایک شخص نہیں ہیں بلکہ وہ سب باتوں میں متفق ہیں۔ یسوع دُعا کرتا ہے کہ اُسکے پیروکار بھی اِسی طرح کے اتحاد سے لطف‌اندوز ہوں تاکہ ”‏دُنیا جانے کہ تُو ہی نے مجھے بھیجا اور جس طرح کہ تُو نے مجھ سے محبت رکھی اُن سے بھی محبت رکھی۔“‏

اَب یسوع اپنے آسمانی باپ سے اُن کی خاطر درخواست کرتا ہے جو اُس کے ممسوح پیروکار ہونگے۔ کس لئے؟ ”‏جہاں مَیں ہوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُو نے مجھے دیا ہے کیونکہ تُو نے بنایِ‌عالم سے پیشتر“‏ یعنی آدم اور حوا کے اولاد پیدا کرنے سے پہلے ”‏مجھ سے محبت رکھی۔“‏ اُس سے بھی بہت پہلے، خدا نے اپنے پہلوٹھے بیٹے سے محبت رکھی جو بعدازاں یسوع مسیح بنا۔

اپنی دُعا کے آخر میں، یسوع پھر زور دیتا ہے:‏ ”‏مَیں نے اُنہیں تیرے نام سے واقف کِیا اور کرتا رہونگا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور مَیں اُن میں ہوں۔“‏ رسولوں کیلئے خدا کے نام کو جاننے میں ذاتی طور پر خدا کی محبت کو جاننا بھی شامل ہے۔ یوحنا ۱۴:‏۱–‏۱۷:‏۲۶؛ ۱۳:‏۲۷، ۳۵، ۳۶؛ ۱۰:‏۱۶؛ لوقا ۲۲:‏۳، ۴؛ خروج ۲۴:‏۱۰؛ ۱-‏سلاطین ۱۹:‏۹-‏۱۳؛ یسعیاہ ۶:‏۱-‏۵؛ گلتیوں ۶:‏۱۶؛ زبور ۳۵:‏۱۹؛ ۶۹:‏۴؛ امثال ۸:‏۲۲، ۳۰۔

▪ یسوع کہاں جا رہا ہے اور اُس راہ کی بابت توما کو کیا جواب ملتا ہے؟

▪ اپنی درخواست سے فلپس بظاہر یسوع سے کیا فراہم کرنے کی توقع رکھتا ہے؟

▪ ایسا کیوں ہے کہ جس نے یسوع کو دیکھا اُس نے باپ کو بھی دیکھ لیا ہے؟

▪ یسوع کے پیروکار کس طرح اُس سے بھی بڑے کام کرینگے؟

▪ کس مفہوم میں شیطان کا یسوع پر کوئی اختیار نہیں؟

▪ یہوواہ نے علامتی انگور کا درخت کب لگایا تھا اور دوسرے کب اور کیسے اِس درخت کا حصہ بن جاتے ہیں؟

▪ بالآخر، انگور کے علامتی درخت کی کتنی ڈالیاں بن جاتی ہیں؟

▪ خدا ڈالیوں سے کس قسم کے پھل کی توقع رکھتا ہے؟

▪ ہم کیسے یسوع کے دوست بن سکتے ہیں؟

▪ دُنیا یسوع کے پیروکاروں سے کیوں عداوت رکھتی ہے؟

▪ یسوع کی کونسی آگاہی اُسکے رسولوں کو پریشان کر دیتی ہے؟

▪ رسول یسوع سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟

▪ رسول بالخصوص کیا سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں؟

▪ یسوع کیسے سمجھاتا ہے کہ رسولوں کا غم خوشی میں بدل جائیگا؟

▪ یسوع کے بیان کے مطابق رسول جلد ہی کیا کرینگے؟

▪ یسوع دُنیا پر کیسے غالب آتا ہے؟

▪ یسوع کو کس مفہوم میں ”‏ہر بشر پر اختیار“‏ دیا گیا ہے؟

▪ خدا اور اُسکے بیٹے کے متعلق علم حاصل کرنے سے کیا مُراد ہے؟

▪ یسوع کن طریقوں سے خدا کا نام ظاہر کرتا ہے؟

▪ ”‏سچائی“‏ کیا ہے اور یہ کیسے ایک مسیحی کو ”‏مُقدس“‏ کرتی ہے؟

▪ خدا، اُسکا بیٹا اور تمام سچے پرستار ایک کیسے ہیں؟

▪ ”‏بنایِ‌عالم“‏ کی ابتدا کب ہوئی تھی؟

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں