-
یہوواہ کے دن پر کیا ہوگا؟مینارِنگہبانی—2010ء | جولائی
-
-
۲ پطرس رسول نے لکھا: ”[یہوواہ] کا دن چور کی طرح آ جائے گا۔ اُس دن آسمان بڑے شوروغل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اجرامِفلک حرارت کی شدت سے پگھل جائیں گے اور زمین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے۔“ (۲-پطر ۳:۱۰) اِس آیت میں ”آسمان“ اور ”زمین“ سے کیا مُراد ہے؟ ”اجرامِفلک“ کس کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟ پطرس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”زمین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے؟“ اِن سوالوں کے جواب جاننے سے ہم مستقبل میں ہونے والے حیرتانگیز واقعات کے لئے خود کو تیار کرنے کے قابل ہوں گے۔
آسمان اور زمین برباد ہو جائیں گے
۳. دوسرا پطرس ۳:۱۰ میں جس ”آسمان“ کا ذکر کِیا گیا ہے اُس سے کیا مُراد ہے اور وہ کیسے برباد ہو جائیں گے؟
۳ خدا کے کلام میں لفظ ”آسمان“ اکثر حکومتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (یسع ۱۴:۱۳، ۱۴؛ مکا ۲۱:۱، ۲) پطرس نے جس ”آسمان“ کے برباد ہونے کا ذکر کِیا اُس سے مُراد انسانی حکومتیں ہیں۔ اِس آسمان کے ”شوروغل کے ساتھ برباد“ ہو جانے کا مطلب ہے کہ انسانی حکومتیں اچانک تباہ ہو جائیں گی۔
۴. ”زمین“ سے کیا مُراد ہے اور وہ کیسے برباد ہو جائے گی؟
۴ ”زمین“ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو خدا سے دُور ہیں۔ نوح کے زمانے میں بھی ایسے ہی لوگ تھے جنہیں خدا نے طوفان کے ذریعے ہلاک کر دیا تھا۔ نوح کے زمانے کے متعلق پطرس رسول نے بیان کِیا: ”اِس وقت کے آسمان اور زمین اُسی کلام کے ذریعہ سے اِس لئے رکھے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہیں گے۔“ (۲-پطر ۳:۷) طوفان نے تو تمام بیدین لوگوں کو ایک ہی وقت میں ہلاک کر دیا تھا مگر ”بڑی مصیبت“ میں ایسا نہیں ہوگا۔ (مکا ۷:۱۴) بڑی مصیبت کا آغاز جھوٹے مذہب کی تباہی سے ہوگا۔ بائبل میں جھوٹے مذہب کو ایک کسبی سے تشبِیہ دی گئی ہے جس کا نام ”بڑا شہر بابلؔ“ ہے۔ یہوواہ خدا حکمرانوں کے دل میں یہ بات ڈالے گا کہ وہ جھوٹے مذہب کو ختم کر دیں۔ (مکا ۱۷:۵، ۱۶؛ ۱۸:۸) بڑی مصیبت کے آخر میں ہرمجدون کی جنگ ہوگی جس میں یہوواہ خدا اِس دُنیا سے اپنے باقی دُشمنوں کو نیست کر دے گا۔—مکا ۱۶:۱۴، ۱۶؛ ۱۹:۱۹-۲۱۔
’اجرامِفلک پگھل جائیں گے‘
۵. دوسرا پطرس ۳:۱۰ کے مطابق ”عناصر“ کس کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟
۵ ”اجرامِفلک“ کیا ہیں جن کا ۲-پطرس ۳:۱۰ میں ذکر ہوا ہے؟ دراصل اُردو بائبل میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”اجرامِفلک“ کِیا گیا ہے نیو ورلڈ ٹرانسلیشن میں اِس کا ترجمہ ”عناصر“ کِیا گیا ہے۔ عناصر دراصل کسی چیز کے بنیادی جزو ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جس یونانی لفظ کا ترجمہ عناصر کِیا گیا ہے وہ ایک بائبل لغت کے مطابق ”حروفِتہجی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو کسی لفظ کے بنیادی جزو ہوتے ہیں۔“ لہٰذا، پطرس نے جن ”عناصر“ کا ذکر کِیا وہ شیطان کی دُنیا کے بنیادی اجزا کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اِس دُنیا کے بنیادی اجزا لوگوں کی سوچ، طورطریقوں اور ارادوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ اِن بنیادی اجزا میں سے ایک ”دُنیا کی رُوح“ ہے جو ”نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔“ (۱-کر ۲:۱۲؛ افسیوں ۲:۱-۳ کو پڑھیں۔) یہ رُوح ہوا کی طرح شیطان کی دُنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اِس کی وجہ سے لوگوں کی سوچ، گفتگو اور چالچلن میں مغرور اور باغی شیطان کی سوچ کا عکس نظر آتا ہے۔ اِسی لئے شیطان ’ہوا کی عملداری کا حاکم‘ کہلاتا ہے۔
۶. دُنیا کی رُوح لوگوں پر کس طرح اثر کرتی ہے؟
۶ دُنیا کی رُوح سے متاثر ہونے والے لوگ شیطان کے ہاتھ کی کٹھپتلی بن جاتے ہیں۔ وہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی بجائے اپنی منمانی کرتے ہیں۔ وہ اکثر تکبر اور خودغرضی سے کام لیتے ہیں۔ وہ اختیار والوں کی مخالفت کرتے ہیں اور ”جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش“ کو پورا کرتے ہیں۔—۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷ کو پڑھیں۔a
۷. ہمیں ”اپنے دل کی خوب حفاظت“ کیوں کرنی چاہئے؟
۷ پس دُنیا کی رُوح کے اثر سے بچنے کے لئے ہمیں ”اپنے دل کی خوب حفاظت“ کرنی چاہئے۔ اِس کے لئے ضروری ہے کہ ہم دوستوں، کتابوں، فلموں اور ویبسائٹ کے انتخاب کے سلسلے میں خدا کے کلام کے اصولوں پر عمل کریں۔ (امثا ۴:۲۳) پولس رسول نے لکھا: ”خبردار کوئی شخص تُم کو اُس فیلسوفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کر لے جو انسانوں کی روایت اور دُنیوی ابتدائی باتوں کے موافق ہیں نہ کہ مسیح کے موافق۔“ (کل ۲:۸) ہمیں اِس حکم پر اَور بھی احتیاط سے عمل کرنا چاہئے کیونکہ یہوواہ کا دن بڑی تیزی سے قریب آ رہا ہے۔ شیطان کی دُنیا کے ”عناصر“ یہوواہ کے دن کی حرارت سے پگھل جائیں گے۔ وہ یہوواہ کے قہر کی تاب نہیں لا سکیں گے۔ اِس بات سے ہمیں ملاکی نبی کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں: ”وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہوگا۔ تب سب مغرور اور بدکردار بھوسے کی مانند ہوں گے اور وہ دن اُن کو ایسا جلائے گا کہ شاخوبن کچھ نہ چھوڑے گا۔“—ملا ۴:۱۔
’زمین اور اُس پر کے کام ظاہر کئے جائیں گے‘
۸. اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ زمین اور اُس پر کے کام ”ظاہر کئے جائیں گے“؟
۸ پطرس کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”زمین اور اُس پر کے کام جل جائیں گے؟“ اُردو بائبل میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”جل جائیں گے“ کِیا گیا ہے نیو ورلڈ ٹرانسلیشن میں اِس کا ترجمہ ”ظاہر کئے جائیں گے“ کِیا گیا ہے۔ پطرس کا مطلب یہ تھا کہ یہوواہ خدا بڑی مصیبت کے دوران شیطان کی دُنیا کو بےنقاب کر دے گا۔ یہ ظاہر ہو جائے گا کہ شیطان اور اُس کی دُنیا یہوواہ اور اُس کی بادشاہت کے خلاف ہونے کی وجہ سے تباہی کے لائق ہے۔ اِس وقت کے بارے میں یسعیاہ نبی نے یوں بیان کِیا: ”[یہوواہ] اپنے مقام سے چلا آتا ہے تاکہ زمین کے باشندوں کو اُن کی بدکرداری کی سزا دے اور زمین اُس خون کو ظاہر کرے گی جو اُس میں ہے اور اپنے مقتولوں کو ہرگز نہ چھپائے گی۔“—یسع ۲۶:۲۱۔
۹. (ا)ہمیں کس طرح کی تفریح سے دُور رہنا چاہئے اور کیوں؟ (ب)ہمیں کون سی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں اور کیوں؟
۹ دُنیا کی رُوح سے متاثر لوگ یہوواہ کے دن پر اپنی اصلیت دکھائیں گے یہاں تک کہ وہ خونخرابے پر اُتر آئیں گے۔ آجکل لوگ پُرتشدد کھیل، ٹیوی پروگرام، فلمیں اور ویڈیو گیمز دیکھتے ہیں۔ اِس سے اُن میں ایسی خصلتیں پیدا ہو سکتی ہیں جن سے یہوواہ کے دن پر اُنہیں ”ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ“ اٹھانے میں شاید ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔ (زک ۱۴:۱۳) پس ہمیں ایسی تفریح سے دُور رہنا چاہئے جو ہمارے اندر غرور اور تشدد جیسی خصلتیں پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہوواہ خدا کو اِن خصلتوں سے نفرت ہے۔ (۲-سمو ۲۲:۲۸؛ زبور ۱۱:۵) اِس کے برعکس ہمیں خدا کی رُوح کا پھل یعنی ایسی خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں جو یہوواہ کے دن کی حرارت سے نہیں پگھلیں گی۔—گل ۵:۲۲، ۲۳۔
-
-
یہوواہ کے دن پر کیا ہوگا؟مینارِنگہبانی—2010ء | جولائی
-
-
یہوواہ کے روزِعظیم کے لئے تیار رہیں
۱۲. یہوواہ کا دن دُنیا کے لئے حیرانی کا باعث کیوں ہوگا؟
۱۲ پطرس رسول اور پولس رسول دونوں نے کہا کہ یہوواہ کا دن ”چور“ کی طرح آئے گا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اُس وقت آئے گا جب اِس کی توقع بھی نہیں ہوگی۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱، ۲ کو پڑھیں۔) سچے مسیحی اِس کے منتظر ہوں گے توبھی وہ اِس کے اچانک آ جانے سے حیران ہو جائیں گے۔ (متی ۲۴:۴۴) لیکن دُنیا کے لوگ نہ صرف حیران ہوں گے بلکہ اُنہیں ہلاکت کا سامنا بھی ہوگا۔ پولس رسول نے لکھا: ”جس وقت لوگ [جو خدا سے دُور ہیں] کہتے ہوں گے کہ سلامتی اور امن ہے اُس وقت اُن پر اِس طرح ناگہاں ہلاکت آئے گی جس طرح حاملہ کو درد لگتے ہیں اور وہ ہرگز نہ بچیں گے۔“—۱-تھس ۵:۳۔
-